بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 35 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 35

54 53 شادی میں ڈھولک جتنا چاہیں بجائیں۔یہ منع نہیں ہے، گانا بھی گا ئیں۔آخر شادی اور موت میں کچھ فرق تو ہونا چاہیے۔لیکن ایسے مواقع پر نا جائز رسمیں نہ کریں۔ناجائز رسمیں بظاہر معصوم بھی ہوں تو نہ کریں کیونکہ وہ معاشرہ کو بوجھل بنا دیں گی اور مصیبتوں میں مبتلا کر دیں گی۔لیکن ( دین حق) نے جس حد تک جائز خوشی کا اظہار رکھا ہوا ہے اس میں منع نہیں کرنا چاہیے۔آنحضرت علی کہ جب مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں کی بچیاں دف بجا رہی تھیں جو ڈھولک ہی کی ایک قسم ہے اور گیت گا رہی تھیں۔رسول اکرم ﷺ نے منع نہیں صلى الله کیا بلکہ پسند فرمایا۔آپ ﷺ کے ساتھ مرد بھی تھے انہوں نے بھی سنا۔پھر فرمایا۔اگر عورت کی آواز میں پاکیزہ گیت گایا جا رہا ہو اور اس کے نتیجہ میں شر پیدا نہ ہوتا ہو تو کہاں منع کیا ہوا ہے خدا نے۔اگر عورت کی آواز سننا منع ہے تو مرد کی بھی منع ہونی چاہے۔وہ عورت کے دل میں تحریک پیدا کرے گی۔۔۔اگر چہ ڈھولک بجانے کی بات اور ہے لیکن اس میں بھی اگر اس قسم کے گیت گائے جائیں جن سے معاشرہ میں گند نہ پھیلے تو جائز ہے لیکن ڈھولک پر گندی گالیاں دینا اور سٹھنیاں دینا لغویات ہیں۔ان کو آپ اختیار نہ کریں۔عام گیت چھیڑ چھاڑ کے، پیار کی باتیں ہیں، مذاق بھی ہوتے ہیں، جائز ہیں۔اس میں گندگی اور غلاظتیں نہیں ہونی چاہیے۔“ مجلس عرفان شائع شدہ لجنہ اماءاللہ کراچی صفحہ 134 ، 135 ) عورتوں کے ناچنے میں حرج ہے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔عورتوں کے عورتوں میں ناچنے میں بھی حرج ہے۔۔۔۔جہاں تک گانے کا تعلق ہے تو شریفانہ قسم کے شادی کے گانے لڑکیاں گاتی ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں۔“ ( خطبات مسر در جلد دوم ص 94) ڈانس اور ناچ سے بچیں حضرت خلیفتہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔میں تنبیہ کرتا ہوں کہ ان لغویات اور فضولیات سے بچیں۔پھر ڈانس ہے ناچ ہے۔بعض دفعہ اس قسم کے بیہودہ قسم کے میوزک یا گانوں کے اوپر ناچ ہورہے ہوتے ہیں اور شامل ہونے والے عزیز رشتہ دار اس میں شامل ہو جاتے ہیں تو اس کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔بعض لوگ اکثر مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد اپنے خاص مہمانوں کے ساتھ علیحدہ پروگرام بناتے ہیں اور پھر اسی طرح کی لغویات اور ہلڑ بازی چلتی رہتی ہے گھر میں علیحدہ ناچ ڈانس ہوتے ہیں چاہے لڑکیاں لڑکیاں ہی ڈانس کر رہی ہوں یا لڑکے لڑکے بھی کر رہے ہوں لیکن جن گانوں اور میوزک پر ہورہے ہوتے ہیں وہ ایسی لغو ہوتی ہیں کہ وہ برداشت نہیں کی جاسکتیں۔“ شادی کارڈ پر اسراف خطبات مسرور جلد 3 صفحہ 687،688) حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔شادی کارڈوں پر بھی بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے۔دعوت نامہ تو پاکستان میں ایک روپے میں بھی چھپ جاتا ہے یہاں بھی بالکل معمولی سا پانچ سات پینس (Pens) میں چھپ جاتا ہے تو دعوت نامہ ہی بھیجنا ہے کوئی نمائش تو نہیں کرنی لیکن بلاوجہ مہنگے مہنگے ) کارڈ چھپوائے جاتے ہیں پوچھو تو کہتے ہیں کہ بڑا ستا چھپا ہے صرف پچاس روپے میں اب یہ صرف پچاس روپے جو ہیں۔اگر کارڈ پانچ سو کی تعداد میں چھپوائے گئے ہیں تو یہ پاکستان میں چھپیں ہزار روپے بنتے ہیں اور چھپیس ہزار روپے اگر کسی غریب کو شادی کے موقع پر ملیں تو