بدرسوم و بدعات — Page 21
28 27 سے منع نہیں فرما ر ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان کچھ ایسی باتیں بھی تم پاؤ گے کہ فی ذاتہ نہ ان کا خبث نظر آئے گا نہ کوئی خاص طیب بات ان میں دیکھو گے۔یہ درمیان کی سرزمین ایسی ہے کہ اس میں بھی تمہارے لئے بعض باتیں مصیبت کا موجب بن سکتی ہیں۔حضرت محمد اللہ تمہیں ایسے رسم ورواج سے بھی روکیں گے اور روک رہے ہیں اور دیگر ایسی عادات سے بھی روکیں گے اور روک رہے ہیں کہ جو تمہاری گردنوں کا طوق ثابت ہوسکتی ہیں۔ان آیات کی روشنی میں میں جماعت کو یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم پر لازم ہے کہ وقتا فوقتا رسم و رواج کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1983ء۔خطبات طاہر صفحہ 629) رسمیں جب قوم پر بوجھ بن جائیں تو انہیں منع کیا جائے گا۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ خوشی کے طبعی اظہار سے ممانعت نہیں لیکن جب یہ رسمیں بن جائیں، قوم پر بوجھ بن جائیں تو پھر انہیں منع کیا جائے گا۔آپ نے فرمایا کہ نیتوں پر دارو مدار ہوتا ہے بعض دفعہ بے تکلفی سے بعض باتیں خود بخو درونما ہورہی ہوتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ رسم کی شکل اختیار کر جاتی ہیں اور انہیں ان کے کرنے پر غیر اللہ کا خوف مجبور کر دیتا ہے۔چنانچہ اس مقام پر نہ صرف وہ منع ہو جاتی ہیں بلکہ شرک میں داخل ہونے لگتی ہیں۔یہ اس وقت کے امام کا فرض ہے کہ وہ قوم کو لاز ما ان چیزوں سے روک دے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1983ء۔خطبات طاہر صفحہ 629) | حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رسموں کے پیچھے نہ چل پڑیں عورتوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔صرف اپنے علاقہ کی یا ملک کی رسموں کے پیچھے نہ چل پڑیں۔بلکہ جہاں بھی ایسی رسمیں دیکھیں جن سے ہلکا سا بھی شائبہ شرک کا ہوتا ہو ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ کرے تمام احمدی خواتین اسی جذ بہ کے ساتھ اپنی اور اپنی نسلوں کی تربیت کرنے والی ہوں۔“ خطبات مسرور جلد اول ص 379 رسم و رواج گلے کا طوق ہیں ان سے جان چھڑا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے ہر اس چیز سے بچنا ہو گا جو دین میں برائی اور بدعت پیدا کرنے والی ہے۔اس برائی کے علاوہ بھی بہت سی برائیاں ہیں جو شادی بیاہ کے موقع پر کی جاتی ہیں اور جن کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں۔اس طرح معاشرے میں یہ برائیاں جو ہیں اپنی جڑیں گہری۔کرتی چلی جاتی ہیں اور اس طرح دین میں اور نظام میں ایک بگاڑ پیدا ہو رہا ہوتا ہے۔اس لئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ، اب پھر کہہ رہا ہوں کہ دوسروں کی مثالیں دے کر بچنے کی کوشش نہ کریں، خود بچیں۔اور اب اگر دوسرے احمدی کو یہ کرتا دیکھیں تو اس کی بھی اطلاع دیں کہ اس نے یہ کیا تھا۔اطلاع تو دی جاسکتی ہے لیکن یہ بہانہ نہیں کیا جاسکتا کہ فلاں نے کیا تھا اس لئے ہم نے بھی کرنا ہے، تا کہ اصلاح کی کوشش ہو سکے، معاشرے کی اصلاح کی جا سکے۔ناچ ڈانس اور بیہودہ قسم کے گانے جو ہیں ان کے متعلق میں نے پہلے بھی واضح طور پر