بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 20 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 20

26 25 کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر کے اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور اُخروی زندگی میں بھی کامیاب ہوں اور مُفْلِحین کے گروہ میں شامل ہونے والے ہوں۔آمین بد رسوم کے خلاف اعلانِ جہاد خطبات ناصر جلد اول ص 385، 386) ”ہماری جماعت کا پہلا اور آخری فرض یہ ہے کہ تو حید خالص کو اپنے نفسوں میں بھی اور اپنے ماحول میں بھی قائم کریں اور شرک کی سب کھڑکیوں کو بند کر دیں۔۔۔توحید کے قیام میں ایک بڑی روک بدعت اور رسم ہے یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر بدعت اور ہر بدرسم شرک کی ایک راہ ہے اور کوئی شخص جو توحید خالص پر قائم ہونا چاہے وہ توحید خالص پر قائم نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمام بدعتوں اور تمام بد رسوم کو مٹا نہ دے۔رسوم تو دنیا میں بہت سی پھیلی ہوئی ہیں لیکن اس وقت اصولی طور پر ہر گھرانے کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانے کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں۔اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوشش کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہو گا وہ یہ یادر کھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔اپنی اصلاح کی فکر کرو اور خدا سے ڈرو اور اس دن کے عذاب سے بچو کہ جس دن کا ایک لحظہ کا عذاب بھی ساری عمر کی لذتوں کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے کہ اگر یہ لذتیں اور عمریں قربان کر دی جائیں اور انسان اس سے بچ سکے تو تب بھی وہ مہنگا سودا نہیں ستا سودا ہے۔“ خطبات ناصر جلد اول ص 758 ،762، 763) حضرت خلیفۃ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ رسمیں اپنی ذات میں بھی بے ہودہ چیزیں ہیں پس یہ ساری وہ رسمیں ہیں جن کے خلاف ہمیں جہاد کرنا ہے اور جماعت کو ان بوجھوں سے آزاد کرنا ہے ورنہ بہت سے جھگڑے بھی چل پڑیں گے۔رسمیں اپنی ذات کو میں بھی بے ہودہ چیزیں ہیں اور آپ کو ان سے آزاد کرانا آپ کی اپنی بھلائی میں ہے لیکن اس کے نتیجہ میں پھر اور جو بد اثرات پیدا ہوتے ہیں اس سے سوسائٹی پھٹ جاتی ہے، اختلافات بڑھ جاتے ہیں، نفرتیں پیدا ہوتی ہیں، دنیا داری بڑھ جاتی ہے، روحانیت کو بڑا شدید نقصان پہنچتا ہے۔ایک دوسرے کے بعد پے در پے رونما ہونے والے نتائج ہیں جو اپنے بد اثرات میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اس لئے رسموں کو معمولی نہ سمجھیں۔اگر آپ ان سے صرف نظر کریں گے تو یہ بڑھ کر آخر کار آپ پر قابو پا جائیں گی پھر یہ پیر تسمہ پا بن جائیں گی۔“ (خطبات طاہر جلد دوم 636) وقتا فوقتا رسم ورواج کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں حلال اور حرام کے مابین وہ عادتیں ہیں جو قوموں پر بوجھ بن جایا کرتی ہیں اور و ان کی ترقی کی رفتار کمزور کر دیا کرتی ہیں اور بعض دفعہ اتنے بڑے بوجھ بن جایا کرتی ہیں کہ ان کی آزادیاں ختم ہو جاتی ہیں۔وہ رسم و رواج کے غلام بن کر رہ جایا کرتے ہیں۔اس لئے یہ بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان ہے۔یہاں یہ اعلان ہو رہا ہے کہ محمد مصطفی ﷺنے صرف حلال اور طبیب کی اجازت نہیں دے رہے۔وہ صرف خبیث اور حرام