بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 15 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 15

16 15 بدعت از روئے حدیث حضرت رسول کریم ﷺ نے بدعت کے بارہ میں فرمایا ہے:۔إِيَّاكُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْأمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ترجمہ۔دین میں نئی باتوں کی ایجاد سے بچو کیونکہ ہر نئی بات جو دین کے نام جاری ہو وہ بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔(ترمذی کتاب العلم باب الاخذ بالسنة) إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كَتَابُ اللهِ وَ اَحْسَنَ الْهَدَى هَدَى مُحَمَّدٍ ، وَ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَ كُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَ كُلَّ بَدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَ كُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ۔(سنن النسائى كتاب الصلوة العيدين باب كيف الخطبة) سب سے اچھی تعلیم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر ہدایت (طریق) محمد کی سنت ہے اور سب سے بری بات ( میری سنت میں ) کوئی نئی چیز (بدعت ) پیدا کرنا ہے کیونکہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ( گمراہی) ہے اور ہر گمراہی کا انجام بالآخر دوزخ ہے۔ایک مرتبہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ دشمنی ہے۔ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو مسلمان ہو کر جاہلیت کی رسموں پر چلنا چاہے۔(بخاری کتاب الديات باب من طلب دم امری ء بغير حق) پھر ایک موقع پر فرمایا:۔مَنْ أَحْدَتْ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَةٌ (بخاری كِتَابُ الصُّلُح بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَهُوَ مَرْدُودٌ) کہ جس نے ہماری شریعت میں کوئی نئی بات داخل کی جو خلاف شریعت ہے تو وہ رد کر دینے کے قابل ہے۔حجتہ الوداع کے موقع پر آنحضور نے فرمایا:۔سنو! شیطان اس سے تو مایوس ہو گیا ہے کہ تمہارے اس شہر میں کبھی بھی اس کی عبادت کی جائے۔ہاں وہ اس سے خوش ہوتا ہے کہ تم اپنے چھوٹے چھوٹے اعمال میں اس کو کی اطاعت کرو۔“ (سنن ابن ماجه كتاب المناسك باب الخطبه يوم النحر) خطبہ حجۃ الوداع میں یہ بھی فرمایا: سنو! میں (اپنی شفاعت سے بہت سے لوگوں کو جہنم سے ) چھڑانے والا ہوں اور ایسے لوگ بھی ہیں، جو مجھ سے الگ کر دیئے گئے۔میں کہوں گا کہ اے اللہ ! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تجھے نہیں معلوم انہوں نے تیرے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی تھیں۔“ (سنن ابن ماجه، كتاب المناسك، باب الخطبه يوم النحر) آنحضور کی حدیث ہے کہ: و جس نے اسلام میں کوئی اچھی روایت قائم کی تو اسے ثواب کے علاوہ ان لوگوں کے ثواب میں سے بھی حصہ ملے گا جو اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کمی کی جائے اور جو کوئی اسلام میں بری روایت جاری کرے گا تو اسے اپنے گناہ کے علاوہ ان لوگوں کے گناہ میں سے بھی حصہ ملے گا جو اس پر عمل پیرا ہوں گے۔بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی کی جائے۔(مسلم کتاب الزكوة باب الحث على الصدقة)