بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 16 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 16

18 17 بد رسوم اور بدعات کے بارہ میں ارشادات شریعت کے بنیادی ماخذ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔(دینی) ہدایتوں پر قائم ہونے کے لئے تین چیزیں ہیں (۱) قرآن شریف۔جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے۔(۲) دوسری سنت۔۔۔سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے۔۔یا بہ تبد یل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل۔(۳) تیسر اذریعہ ہدایت کا حدیث ہے۔“ ریویو بر مباحثہ چکرالوی و بٹالوی۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 209 210) امام آخر الزمان نے حکم و عدل ہونے کی حیثیت میں ان تینوں ماخذ کی بابت حقیقی راہنمائی فرمائی ہے کیونکہ آنحضور ﷺ نے آپ کو اس زمانہ کا حکم وعدل قرار دیا ہے: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكُنَّ أَن يَّنْزِلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدَلاً فَيَكْسِرُ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْحَرْبَ۔(صحیح بخاری مطبع مترجم مكتبه اسلاميه جلد 2 كتاب الانبياء باب نزول عيسى ابن مريم) مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ضرور ضرور مسیح بن مریم نازل ہوں گے جو حکم و عدل بن کر تمہارے اختلافات کا فیصلہ کریں گے اور وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جنگ کو موقوف کریں گے۔اس حدیث کے مطابق تمام اختلافی معاملات کے بارہ میں اس زمانہ کے حکم وعدل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فیصلہ کرنا ہے۔دین میں سب سے زیادہ خرابی پیدا کرنے والی باتوں میں سر فہرست بد رسوم اور بدعات ہیں۔کتاب کے اس باب میں رسومات کے بارہ میں کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ارشادات پیش ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام طرح طرح کی رسومات " قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران : 32) اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سچی فرمانبرداری کی جاوے دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں کوئی مرا جاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں حالانکہ چاہئے کہ مردہ کے حق میں دعا کریں۔رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت علی کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت ﷺ کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جا تا اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 316) رسم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے۔اور خود بھی خدا تعالیٰ سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے۔۔بلا مدد وحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے اور ایسی رائے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ