بدرسوم و بدعات — Page 14
14 13 یہ احسانات جن کا ان آیات میں ذکر ہے یہ دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔حضور اکرم اللہ نے کچھ ذمہ داریاں ادا فرما ئیں ان میں جو آپ کے ساتھ تعاون کرے گا جو آپ کی مدد کرے گا ان سے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔أُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (اعراف آیت : 158 ) کہ صرف انہی لوگوں تک حضرت محمد مصطفی ﷺ کا فیض پہنچے گا اور وہی فلاح پائیں گے اور جو اعراض کریں گے اور ان سے فائدہ نہیں اٹھا ئیں گے وہ ان ذمہ داریوں میں اسی حد تک ناکام و نا مرا در ہیں گے جو حضرت محمد مصطفی علیہ کے ذریعہ ہم تک پہنچیں۔اس آیت کریمہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حرام اور حلال بیان فرمانے کے بعد وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأغْللَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ایک تیسری چیز بیان فرمائی کہ وہ ان کے بوجھ اتارتا ہے اور ان کی گردنوں سے ایسے طوق دور کرتا ہے جنہوں نے انہیں باندھ رکھا تھا۔اس سے مراد حلال اور حرام کے مابین وہ عادتیں ہیں جو قوموں پر بوجھ بن جایا کرتی ہیں اور ان کی ترقی کی رفتار کمزور کر دیا کرتی ہیں اور بعض دفعہ اتنے بڑے بوجھ بن جایا کرتی ہیں کہ ان کی آزادیاں ختم ہو جاتی ہیں۔وہ رسم و رواج کے غلام بن کر رہ جایا کرتے ہیں۔اس لئے یہ بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان ہے۔یہاں یہ اعلان ہو رہا ہے کہ محمد مصطفی علیہ صرف حلال اور طیب کی اجازت نہیں دے رہے۔وہ صرف خبیث اور حرام سے منع نہیں فرما رہے بلکہ ان دونوں کے درمیان کچھ ایسی باتیں بھی تم پاؤ گے کہ فی ذاتہ نہ ان کا خبث نظر آئے گا نہ کوئی خاص طیب بات ان میں دیکھو گے۔یہ درمیان کی سرزمین ایسی ہے کہ اس میں بھی تمہارے لئے بعض باتیں مصیبت کا موجب بن سکتی ہیں۔حضرت محمد ﷺ تمہیں ایسے رسم ورواج سے بھی روکیں گے اور روک رہے ہیں اور دیگر ایسی عادات سے بھی روکیں گے اور روک رہے ہیں کہ جو تمہاری گردنوں کا طوق ثابت ہوسکتی ہیں۔ان آیات کی روشنی میں میں جماعت کو یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم پر لازم ہے کہ وقتا فوقتا رسم ورواج کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا۔کہ خوشی کے طبعی اظہار سے ممانعت نہیں لیکن جب یہ رسمیں بن جائیں ، قوم پر بوجھ بن جائیں تو پھر انہیں منع کیا جائے گا۔آپ نے فرمایا کہ نیتوں پر دارو مدار ہوتا ہے بعض دفعہ بے تکلفی سے بعض باتیں خود بخو درونما ہورہی ہوتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ رسم کی شکل اختیار کر جاتی ہیں اور انہیں ان کے کرنے پر غیر اللہ کا خوف مجبور کر دیتا ہے۔چنانچہ اس مقام پر نہ صرف وہ منع ہو جاتی ہیں بلکہ شرک میں داخل ہونے لگتی ہیں۔یہ اس وقت کے امام کا فرض ہے کہ وہ قوم کو لاز ما ان چیزوں سے روک دے۔“ خطبه جمعه فرمودہ 16 دسمبر 1983 ء۔خطبات طاہر صفحہ 627 تا 629)