بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 13 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 13

12 11 بدعت اور رسم از روئے قرآن کریم (لقمان: 7) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِى لَهُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ۔یعنی لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنا روپیہ ضائع کر کے کھیل تماشا کی باتیں اختیار کر لیتے ہیں تا کہ بغیر علم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ سے روکیں۔اور اس ( یعنی اللہ کے راستہ کو) ہنسی کے قابل چیز بنا لیتے ہیں۔ان لوگوں کے لئے ذلت والا عذاب ہوگا۔وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (مومنون : 4 ) اور وہ لوگ جولغو اور ہر بے فائدہ کام سے اعراض کرتے ہیں۔إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الَّا ذُقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُونَ (يسين:9) ترجمہ: ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے ہوئے ہیں اور وہ ان کی ٹھوڑیوں تک چڑھ گئے ہیں اور وہ (دکھ سے بچنے کے لئے اپنی گردنیں اونچی کر رہے ہیں۔اس کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب شریعت نازل نہیں ہوتی تو انسان اپنی من گھڑت رسوم کے طوق اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے اور ان رسوم کی سختی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ انسان اپنے سامنے کی چیز کو بھی نہیں دیکھ سکتا اوران سے بچنے کے لئے آنکھیں بند کر کے اپنی گردن اونچی کرنے لگتا ہے۔یعنی آنکھیں کھول کر یہ بھی نہیں دیکھتا کہ میں بے ہودہ رسوم میں جکڑا ہوا ہوں ، مگر نکلیف دور کرنے کے لئے کبھی کبھی اپنی گردن اونچی کرتا ہے یعنی قوم سے چوری چھپے ان رسوم کی تکلیف سے بچنا بھی چاہتا ہے۔“ ( تفسیر صغیر صفحہ 576 حاشیہ ) الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى التَّوْرَاةِ وَالْأَنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ط فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّو رَالَّذِى أُنْزِلَ مَعَهُ أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔(اعراف آیت : 158) ترجمہ: وہ لوگ جو ہمارے اس رسول یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع | کرتے ہیں جو نبی ہے اور امی ہے جس کا ذکر تورات اور انجیل میں ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہے وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بُری باتوں سے روکتا ہے اور سب پاک چیزیں ان پر حلال کرتا اور سب بُری چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے بوجھ ( جو ان پر لا دے ہوئے تھے ) اور طوق جو ان کے گلوں میں ڈالے ہوئے تھے وہ ان سے دور کرتا ہے۔پس وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے اور اس کو طاقت پہنچائی اور اس کو مدددی اور اس نور کے پیچھے چل پڑے جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے وہ لوگ بامراد ہو گئے۔حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں آنحضور عملہ کے ان عظیم احسانات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو آپ نے تمام دنیا پر اور ہر زمانے کے انسان پر قیامت تک کے لئے فرمائے۔آپ کے کچھ احسانات تو ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ بنی نوع انسان تک از خود پہنچ رہے ہیں اور کچھ احسانات ایسے ہیں جن میں بنی نوع انسان پر کچھ ذمہ داریاں عائد کی گئی۔ہیں کہ اگر وہ آگے بڑھیں گے ہاتھ بڑھا ئیں گے تو اس پھل کو پائیں گے جو ان کے لئے حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کامل اور نہایت شیریں اور مکمل حالت میں پیدا فرمایا ہے اور اگر وہ ہاتھ نہیں بڑھا ئیں گے تو اپنا نقصان کریں گے۔