بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 59 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 59

101 100 توشئہ خواجہ خضر دینا یہ بھی ایک رسم ہے کہ بعض لوگ زراعت اور فصل کو بارشوں، سیلابوں اور طوفانوں اور دیگر آفات سے بچانے کے لئے خواجہ خضر کے نام کا توشہ یا نیاز دیتے ہیں۔یہ بھی مشرکانہ رسم ہے۔کیونکہ اس میں غیر اللہ کی نیاز دے کر غیر اللہ سے مدد مانگی جاتی ہے۔حالانکہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کے نام کی نیاز دینا بھی شرک ہے اور کسی سے مدد مانگنا بھی شرک ہے۔علاوہ ازیں دیگر ہزاروں قسم کی مشرکانہ رسوم ہمارے معاشرے میں رائج ہیں۔بعض بزرگوں کے نام کا روٹ پکا کر دینا۔بی بی فاطمہ کی نیاز دینا۔جمن شاہ کی ”من“ پکا کر دینا۔ختم خواجگان پر حلیم پکانا ایسی بے شمار رسوم و بدعات جو مو ہم شرک ہیں۔لوگوں کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں۔اب یہ رسوم جو جہالت کی پیداوار میں لوگوں کا سمجھ دار سنجیدہ طبقہ ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ترک کر رہا ہے۔بزرگوں کے نام کا ختم پڑھوانا بعض لوگ بزرگوں کے ناموں پر ختم پڑھواتے ہیں مثلا ختم شیخ عبدالقادر جیلانی، گیارہویں پکانے کی رسم ختم خواجہ نقش بند ختم خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، ختم خواجه خضر ختم خواجگان، ایسے تمام ختم پڑھوا نے درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ (شعراء: 214) یعنی اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الہ کو نہ پکارو۔چونکہ ان ختموں میں غیر اللہ کو پکارا جاتا ہے۔اس لئے ایسے ختم موہم شرک اور ممنوع ہیں۔تصویر کشی میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ کوئی میری تصویر کھینچے اور اس کو بت پرستوں کی طرح اپنے پاس رکھے یا شائع کرے۔میں نے ہرگز ایسا حکم نہیں دیا کہ کوئی ایسا کرے اور مجھ سے زیادہ بت پرستی اور تصویر پرستی کا کوئی دشمن نہیں ہوگا۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آجکل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اول خواہشمند ہوتے ہیں کہ اُس کی تصویر دیکھیں۔کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے اور اکثر اُن کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں کہ ایسا مدعی صادق ہے یا کاذب اور وہ لوگ بباعث ہزار ہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔لہذا اُس ملک کے اہل فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں۔کئی ایسے لوگ ہیں۔جو انہوں نے یورپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علم فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جسکی یہ تصویر ہے وہ کا ذب نہیں ہے اور ایک امریکہ کی عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ يسوع یعنی عیسی علیہ السلام کی تصویر ہے۔پس اس غرض سے اور اس حد تک میں نے اس طریق کے جاری ہونے میں مصلحتاً خاموشی اختیار کی وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات اور میرا مذہب یہ نہیں ہے کہ تصویر کی حرمت قطعی ہے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ فرقہ جن حضرت سلیمان کیلئے تصویر میں بناتے تھے اور بنی اسرائیل کے پاس مدت تک انبیاء کی تصویریں رہیں جن میں آنحضرت علے کی بھی تصویر تھی اور آنحضرت علی کو حضرت عائشہ کی تصویر ایک پارچہ ریشمی پر جبرائیل علیہ السلام نے دکھلا ئی تھی۔اور پانی میں بعض پتھروں پر جانوروں کی تصویر میں قدرتی طور پر چھپ جاتی ہیں۔اور یہ آلہ جس کے ذریعہ سے اب تصویر لی جاتی ہے آنحضرت عملے کے وقت میں ایجاد نہیں ہوا تھا اور یہ نہایت ضروری آلہ ہے جس کے ذریعہ سے بعض امراض کی تشخیص ہو سکتی ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 365 تا 367)