ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 50
50 اس نے اپنی بشریت کے دنوں میں اور زور سے پکار کر آنسو بہا بہا کر اس سے دعا ئیں اور التجائیں کیں جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا اور خدا ترسی کے سبب اس کی سنی گئی۔(7:5 (عبرانیوں آخر خدا تعالیٰ نے اپنے فرشتوں اور روح القدس کے ذریعہ اپنے ( لوقا : 43:22) پیارے کو تسلی کا پیغام بھیجا۔یعنی قتل کے اس پیالہ سے بالآخر تمہاری جان بخشی جائے گی۔حضرت عیسی علیہ السلام کا مقدمہ : کیا گیا۔وو حضرت مسیح کو گرفتار کر کے ایک سردار کا ہن کیفا نامی کے سامنے پیش ” پھر سردار کاہن نے یسوع سے اس کے شاگردوں اور اس کی تعلیم کی بابت پوچھا۔یسوع نے اسے جواب دیا کہ میں نے دنیا سے اعلانیہ باتیں کی ہیں۔میں نے ہمیشہ عبادت خانوں اور ہیکل میں جہاں سب یہودی جمع ہوتے ہیں تعلیم دی اور پوشیدہ کچھ نہ کہا تو مجھ سے کیوں پوچھتا ہے سننے والوں سے پوچھ کہ میں نے ان سے کیا کہا دیکھ ان کو معلوم ہے کہ میں نے کیا کیا کہا۔(يوحنا 21-18/20) کاہن نے سب کی طرف دیکھا کہ اب بتاؤ تم اس پر کیا کیا الزام لگاتے تھے مگر کفر ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت، کوئی گواہ نہ ملا۔وو سردار کاہن اور سب صدر عدالت والے یسوع کو مار ڈالنے کے لئے اس کے خلاف جھوٹی گواہی ڈھونڈنے لگے مگر نہ پائی گو بہت سے جھوٹے