ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 49 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 49

49 میں دخل دینا بھی گوارا نہ تھا۔عرض کرتے ہیں کہ اگر یہی مقدر میں ہے تو جو تو چاہتا ہے وہی کر مقصد تو خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔مسیح ان دنوں گرفتاری کے خوف سے چھپے پھرتے تھے اور وہ اور اُن کے شاگرد ایک ہی قسم کا لباس پہنتے تھے اور منہ کو بھی ڈھانک کر کھتے تھے تا کہ حضرت مسیح کا اُن کو پتہ نہ چل جائے (یوحنا باب 21 آیت (4) دشمن بھی آپ کی تلاش میں تھا اور وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح ہمیں پتہ لگ جائے کہ ان میں سے مسیح کون سا ہے آخر انہوں نے تمیں روپے رشوت دے کر حضرت مسیح کے ایک شاگرد یہوداہ کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اُس نے کہا میرے ساتھ چلو جہاں سب اکٹھے بیٹھے ہوئے ہوں گے وہاں آگے بڑھ کر میں جس شخص کا بوسہ لوں تم سمجھ جانا کہ وہی مسیح ہے اور اُسے گرفتار کر لینا۔ادھر حضرت مسیح کو اللہ تعالی نے قبل از وقت الہام کے ذریعہ بتا دیا تھا کہ تمہارا فلاں شاگرد اس طرح غداری کرے گا چنانچہ جب یہوداہ دشمن کے سپاہی لے کر وہاں پہنچا اور وہ آپ کا بوسہ لینے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت مسیح نے کہا۔”اے یہوداہ کیا تو بوسہ لے کر ابن آدم کو پکڑوا تا لوقاہ باب 22 : 48، تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 65 ہے؟ گتسمنی میں اس دعا کے بعد آپ گرفتار کر لئے گئے۔ایک خدا پرست انسان کی طرح آپ یہ سوچ کر پریشان ہو گئے کہ گرفتاری، صلیب پر چڑھنا وغیرہ (موت کا آپ کو علم تھا کہ آپ کو صلیب پر نہیں آئے گی ) اگر ٹل نہ سکے تو وہ انسان جو حق کی تلاش میں آپ کو سچا نبی سمجھ رہے تھے سخت ٹھوکر کھائیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف رہنمائی کا کام پورا نہ ہو سکے گا اس لئے وہ بار بار اپنے خدا کے حضور جھکے جس قدر ان کا دل پریشان ہوتا اور مخالفت زور پکڑتی گئی آپ کی دعا میں درد پیدا ہوتا گیا ” اس کا پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں بن کر زمین پر ٹپکتا۔“ (44۔22)