ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 51
51 گواہ آئے “ (متی 60-26/59) جب کچھ بن نہ پڑی اور کوئی قصور ثابت نہ ہوا تو سردار نے جھوٹ ہی اپنے کپڑے پھاڑ لئے اور کہا اس نے میرے سامنے کفر بکا ہے ہمیں گواہوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں یہ قتل کے لائق ہے۔اس پر حضرت مسیح علیہ السلام کی مشکیں کس لی گئیں اور عدالت میں پیش کر دیے گئے۔عدالت کا سربراہ پیلاطوس تھا۔وہ خوب جانتا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ابن مریم بے گناہ ہیں۔” پھر پیلاطوس نے سردار کاہنوں اور سرداروں اور عام لوگوں کو جمع کر کے ان سے کہا کہ تم اس شخص کو لوگوں کو بہکانے والا ٹھہرا کر میرے پاس لائے ہو اور دیکھو میں نے تمہارے سامنے ہی اس کی تحقیقات کی مگر جن باتوں کا الزام تم اس پر لگاتے ہو ان کی نسبت نہ میں نے اس میں کچھ قصور پایا نہ ہیرودیس نے کیونکہ اس نے اسے ہمارے پاس واپس بھیجا ہے اور دیکھو اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوا جس سے وہ قتل کے لائق ٹھہرتا“۔(23/13-156) مقدمہ کی کاروائی جاری تھی پیلاطوس اپنی ذاتی دلچسپی سے مسیح علیہ السلام کو چھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔عدالت میں ایک پیغامبر آیا کہ مجھے آپ کی بیوی نے بھجوایا ہے۔جب پیلاطوس اس کی بات سننے کے لئے اُٹھا تو اس نے کہا کہ آپ کی بیوی نے مجھے یہ پیغام آپ تک پہنچانے کے لئے دیا ہے کہ آج میں ساری رات سوئی نہیں کیونکہ فرشتے مجھے بار بار آ کر کہتے تھے کہ یہ شخص بے گناہ ہے اسے سزا نہ دینا ورنہ امر جاؤ گے۔انجیل متی باب 19:27 - تفسیر کبیر جلد پنجم ص109) پیلاطوس جو پہلے ہی آپ کو بے گناہ سمجھتا تھا اس پیغام سے ڈر گیا اور