ایک عزیز کے نام خط — Page 64
شفقت ا۔آپ کے کندھوں پر سوار ہو جاتے تھے لیکن آپ اسے برانہیں مناتے تھے۔لیکن یہ پنے دائرہ کے اندرتھی۔تمام دنیا جانتی ہے کہ آپ کو اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کس قدر محبوب تھیں لیکن آپ ان سے بھی فرمایا کرتے تھے کہ اے فاطمہ عمل کیجیو، عمل كيجيو کیونکہ آخرت میں تجھ سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تو کس کی بیٹی ہے بلکہ یہ سوال ہوگا کہ تو عمل کیا کرتی رہی ہے۔ایک دفعہ آپ گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ فاطمہ آئی تھی اور آپ سے کچھ کہنا چاہتی تھی۔میں نے ٹھہرانا چاہا لیکن وہ واپس اپنے مکان پر چلی گئی۔چنانچہ آپ حضرت فاطمہ کے مکان پر تشریف لے گئے اور دریافت کیا کہ کیا بات تھی۔بیٹی نے عرض کیا کہ پتھر سے اناج کوٹتے کوٹتے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے ہیں۔میں یہ عرض کرنے کے لئے گئی تھی کہ آئندہ جب غلام تقسیم ہوں تو کوئی لونڈی یا غلام مجھے بھی عطا ہوتا میں اس تکلیف سے بچ جاؤں۔محبوب خدا کی بیٹی ، خاتم الانبیاء کی نور چشم ، شاہ عرب کی لخت جگر ، گھر میں ایک لونڈی غلام نہیں۔دو جہانوں کے سرتاج باپ سے عرض کرتی ہے کہ اگر غلام یا لونڈی عطا ہو تو اس مشقت سے نجات پاؤں جس سے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے ہیں۔حضور ﷺ نے جواب دیا فاطمہ کیا میں تجھے وہ بات نہ بتاؤں جو تیرے لئے دنیا اور آخرت میں کئی لونڈیوں اور غلاموں سے بہتر ہے؟ بیٹی نے عرض کیا فرمائیے۔آپ نے فرمایا سوتے وقت ۳۳ دفعہ سبحان اللہ اور ۳۳ دفعہ الحمد لله اور ۳۴ دفعہ اللہ ڑھا کرو۔یعنی خدا کی تسبیح وتحمید و تکبیر میں مشغول رہو۔بیٹی نے عرض کیا میں ایسا ہی کروں گی اور لونڈی غلاموں کی خواہش دل سے نکال دی۔ایک دفعہ آپ صدقہ کی کھجور میں تقسیم فرمارہے تھے۔امام حسن یا امام حسین کھیلتے کھیلتے آ نکلے اور کھجوروں کے ڈھیر سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔آپ نے اپنی انگلی نوا سے کے منہ میں ڈال کر کھجور نکال کر باہر پھینک دی اور فرمایا : آل محمد ﷺ کے لئے صدقہ کھانا جائز نہیں۔الله اکبر 64