ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 65 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 65

ایک دفعہ قریش کے ایک معزز خاندان کی ایک عورت پر سرقہ کا الزام ثابت ہوا۔قضاء کا حکم جاری ہوا، اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائے۔قریش کے معززین نے اسامہ بن زید کے واسطے سے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ معزز خاندان کی عورت ہے اس کی سزا میں حضور ع تخفیف فرما ئیں یا معاف کر دیں۔حضور نے فرمایا وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْسَرِقَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا۔یعنی مجھے اللہ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میری بیٹی فاطمہ بھی سرقہ کرے تو میں اس کا ہاتھ کٹوا دوں۔آپ کا لخت ابراہیم فوت ہو گیا۔اولا د ہونے کے لحاظ سے بھی عزیز اور بڑھاپے کا اس وقت اکلوتا ہی بیٹا۔باپ نے اپنے محبوب کی رضا کو صبر اور شکر کے ساتھ قبول کیا اور فرمایا الْعَيْنُ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبُ يَحْزُنُ وَلَا نَقُوْلُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَ إِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ۔یعنی آنکھ بہتی ہے اور دل بے شک مغموم ہے لیکن ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہو اور منہ سے ایسا کلمہ نہیں نکالتے جو اسے ناپسند ہو۔گواے ابراہیم ہمیں تیری جدائی کا غم ہے۔یہ ذکر آچکا ہے کہ جب آپ حضرت خدیجہ کی طرف سے بطورا ایجنٹ یا ملازم تجارت پر بھیجے گئے تھے تو آپ نے اپنے فرائض کو کس خوبی اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا۔غلاموں سے سلوک آپ ﷺ خود تو غلام رکھتے ہی نہیں تھے۔مدینہ میں بھی جب کبھی کوئی غلام آپ کے حصہ میں آتا تھا تو آپ اس کو آزاد کر دیتے تھے۔مکہ میں شروع شروع میں آپ کے پاس زید نامی ایک غلام تھا۔یہ ایک معزز عرب خاندان کا نوجوان تھا۔کسی جنگ میں قید ہو کر غلامی میں بک گیا تھا اور ہوتے ہوتے رسول اللہ علیہ کی ملکیت میں آ گیا۔یہ شروع نبوت کا زمانہ تھا جب اس کے والد اور چا کو علم ہوا کہ یہ مکہ میں ہے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں 65