ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 24 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 24

صل الله نے یوں بیان فرمایا ہے تَخَلَّقُوْا بِاَخلاق اللهِ۔یعنی اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے اخلاق اور صفات سے مزین کرو۔اور اسی حالت اور تعلق کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ فطرت صحیحہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا محبوب بنائے اور پھر اس کی شدت محبت کا تقاضا یہ ہوگا کہ وہ محبوب کامل کی صفات اپنے اندر پیدا کرے اور جب ان صفات کو انسانی کمال کی حد تک وہ اپنے اندر پیدا کر لے گا تو وہ خود اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جائے گا۔اور یہی آخری مقصد حیات انسانی کا ہے اور یہی انسانی زندگی کا کمال ہے۔معرفت الہی کے لئے صفات الہی کا علم ضروری ہے اس مقصد کے حصول کے لئے لازم ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم ہو اور وہ بار باران صفات پر غور کرتا رہے اور ان کے ظہور کے مواقع اور ان کے اثرات کا مطالعہ کرتا رہے تا اللہ تعالیٰ کے جبروت اور تقدس اور اس کی اعلیٰ قدرتوں کا نقش اس کے دل میں بیٹھتا چلا جائے۔اور آخر اس کے کامل جلال اور جمال کے جلوہ سے انسان اس حد تک گداز اور بے تاب ہو جائے کہ نہ اس کی اپنی کوئی مرضی رہے اور نہ اپنی کوئی خواہش اور اس کا ہر ذرہ اسی محبوب حقیقی کی راہ میں فدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم نہایت وسیع ہے۔اور گہری معرفت اور شناخت کو چاہتا ہے۔اور سچ تو یہ ہے کہ اصل معرفت اللہ تعالیٰ اور اس کے بندہ کے درمیان ایک راز ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا محال ہے۔لیکن پھر بھی ایک انسان کے لئے جو اس راہ پر قدم زن ہونا چاہتا ہے پہلا مرحلہ یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم ایک علم کے طور پر حاصل کرے اور اسے اپنے ذہن اور فکر کا جزو بنائے اور اس سے فائدہ اٹھا کر معرفت کی راہوں پر گامزن ہو۔24