ایک عزیز کے نام خط — Page 23
حصہ مخلوقات کو عطا نہیں کی گئیں۔اور باقی حصہ مخلوقات کو تمہاری اور تمہاری جنس کی خدمت پر مامور کیا گیا ہے۔تمہیں احسن تقویم پر بنایا گیا ہے یعنی لا انتہا ترقی کے لئے جو قومی اور طاقتیں ضروری تھیں وہ تمہیں دی گئی ہیں اور جو سامان اس ترقی کے لئے ضروری تھے وہ مہیا کئے گئے ہیں۔سو چاہئے کہ تمہارا دل خوشی سے لبریز ہو جائے اور تمہارا دل اور تمہارا دماغ اور تمہاری روح اپنے خالق کے سامنے سجدہ میں گر جائیں۔اور تم اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے کھڑے اور لیٹے ہوئے ان باتوں پر غور کرو اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو۔اور اس کا شکر کرو اور تمہارے دل کی تمام کیفیات خوشی اور بشاشت کی کیفیات ہوں اور مایوسی اور نا امیدی تمہارے پاس بھی نہ پھٹکیں۔اور تمہیں اپنے خالق ورب کی قدرتوں پر پورا ایمان ہو۔اور تمہارا تمام بھروسہ اور تو گل اسی پر ہو اور اس کے ساتھ محبت اور وفا اور استقلال کا تم پختہ عہد باندھو اور صرف اسی سے تمہیں خوف ہو اور وہی تمہارا مدعا اور مقصد اور محبوب ہو۔19 مئی زندگی کا کمال زندگی کا مقصد کیا ہے؟ انسانی زندگی کا کمال یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا نقش اپنی ہستی پر جمائے۔اس طور پر کہ اس کی اپنی ہستی بالکل اس نقش کے سایہ میں آجائے اور کوئی حصہ یا کو نہ اس کا اس الہی سایہ سے باہر نکلا ہوا نہ رہے۔گویا وہ اپنی ہستی میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن جائے۔اسی حالت کے کمال کا نام عبودیت یعنی اللہ تعالیٰ کا عبد بننا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون یعنی میں نے بڑے اور چھوٹے سب قسم کے انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بن جائیں۔یعنی میری صفات کے مظہر بن جائیں۔اور اسی مقصد کو رسول اللہ سورة الذاريات - آیت 57 23