ایک عزیز کے نام خط — Page 25
ہمارا خدا اللہ تعالیٰ وہ وراء الورا اور لطیف در لطیف ہستی ہے جس کے امر سے ساری کائناتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور جاری ہے۔اس کی قدرت اور اختیار کی انتہا نہیں۔وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔نہ وہ خود جنا گیا اور نہ وہ جنتا ہے۔وہ اپنی ذات کے قیام کے لئے کسی مدد یا سہارے کا محتاج نہیں۔اسکے احاطہ قدرت اور اختیار سے باہر کوئی شے نہیں۔اور اسکی ذات کے بغیر کوئی ش خود بخود قائم نہیں۔سب اشیا اپنے قیام کے لئے اس کے سہارے کی محتاج ہیں۔کائنات کے قیام اور ترقی کے لئے اس نے ہر شے میں خواص رکھے ہیں اور ہر حصہ کائنات کو بعض قوانین کا پابند کیا ہے لیکن اسے یہ قدرت ہے کہ وہ ان خواص کو زائل کر دے یا انہیں بدل دے یا ان میں ایزادی کر دے۔اور اسی طرح اسے قدرت ہے کہ قوانین کے اجراء کا بعض حالتوں میں التواء کر دے گو اپنی سنت سے متعلق اس کا وعدہ ہے کہ وہ اس میں تبدیلی نہیں کرتا۔مثلاً یہ کہ اسے قدرت ہے کہ وہ ایک مردہ کو زندہ کر دے اور پھر اسے اس دنیا کی زندگی عطا کرے لیکن اس کا فرمان ہے کہ وہ ایسا نہیں کریگا تا بنی نوع انسان اس کی مقرر کردہ سنت کے مطابق ہی ترقی میں کوشاں ہوں۔لیکن بعض دفعہ وہ خارق عادت طور پر اپنے بندوں کے لئے نشان دکھلاتا ہے جو کبھی تو کشف کے رنگ میں ہوتے ہیں اور کبھی مکالمہ کے طور پر۔گوان میں پھر بھی کسی قدر پہلو اخفا کا رہتا ہے۔جیسے قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے دشمنوں نے آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آگ انہیں کوئی تکلیف یا نقصان نہ پہنچا سکی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بارش کر کے یا تیز ہو چلا کر عین وقت پر آگ ٹھنڈی کر دی۔یا مثلاً بھوک یا پیاس کا خاصہ ہے کہ وہ کھانے اور پینے سے بجھتی ہیں۔لیکن بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کا اپنے پیاروں کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے کہ بغیر مادی خوراک یا پینے کی اشیاء کے وہ ان کے اس قدرتی تقاضے کو اس طور پر ٹھنڈا کر دیتا ہے کہ گویا انہوں نے واقع میں کچھ 25