ایک عزیز کے نام خط — Page 108
کی مسجد میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شامل ہوں اور جمعہ کے دن اس سے وسیع رقبہ کے مسلمان جمعہ کی نماز کے لئے اکھٹے ہوں اور اس موقعہ پر امام نماز سے پہلے خطبہ بھی پڑھے جس میں اپنے مقتدیوں کو اسلامی تعلیم کے کسی پہلو کی طرف توجہ دلائے خواہ وہ پہلو دینی ہو یا اخلاقی یا معاشرتی یا تمدنی۔اور پھر سال میں دو بار عیدین کے موقعہ پر تمام شہر کے یا ایک علاقہ کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوں اور عید کی نماز کھٹے ایک جگہ ادا کریں اور خطبہ سے بھی مستفید ہوں۔اور پھر حج کے موقع پر اکناف عالم سے مسلمان مکہ معظمہ میں جمع ہوں اور مناسک حج بجالائیں اور آپس میں اسلامی اخوت کے رشتہ کو تازہ کریں اور مسلمانوں کی بہبودی اور ترقی کی تجاویز پر غور کریں۔مناسک حج کے بجالانے میں ایک احساس جو ہر حاجی کے دل میں ولولہ پیدا کر کے بار بار رفت سے اس کی آنکھوں کو پر آب کر دیتا ہے یہ ہے کہ یہ وہ سرزمین ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ طیبہ کا اکثر حصہ گزارا اور ہر مقام حضور ﷺ کی حیات مبارکہ کے واقعات کو آنکھوں کے سامنے لاتا ہے۔اور جو قربانیاں حضور ﷺ نے اسلام کی خاطر کیں ان کی یاد تازہ کرتا ہے۔اسلام کس حالت میں شروع ہوا اور کن تکالیف اور مصائب سے گذرا اور کس طرح اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوئے اور باوجود دشمنوں کی طاقت اور ان کے جتھہ کے اور مسلمانوں کی قلیل تعداد اور ظاہری سامانوں کی کمی بلکہ فقدان کے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا کیا، یہ سب نقشہ بار بار آنکھوں کے آگے پھرتا ہے۔اور ایک مومن کے ایمان کو تازہ کرتا ہے اور ساتھ ہی مسلمانوں کی موجودہ حالت دیکھ کر دل میں درد اور حسرت پیدا ہوتی ہے اور اسلام کے احیاء اور دوبارہ غلبہ کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔الله اخلاق اب میں اسلامی تعلیم کے اس حصہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو انسانی اخلاق کے 108