ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 107 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 107

غرباء کی ضروریات کی طرف توجہ دلاتا ہے اور ان کے دلوں میں ہمدردی کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ان کو عملاً یہ بتا دیتا ہے کہ بھوک اور پیاس کی شدت کے وقت انسان کی کیا حالت ہوتی ہے۔رمضان انسان کی روحانی ترقی کا ایک نہایت ہی مؤثر ذریعہ اور عمدہ موقعہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور عبادتوں کے تو اور اجر ہیں لیکن روزہ کا اجر میں خود ہی ہوں اس سے روزہ کی اہمیت اور اس کی برکات کا اندازہ ہو سکتا ہے۔حج پھر ایک عبادت حج ہے جو ہر بالغ اور عاقل مسلمان پر جو اس کی استطاعت رکھتا ہو اور استطاعت میں یہ بھی شامل ہے کہ علاوہ مالی استطاعت کے سفر اور دوران حج میں امن بھی میسر ہو ) فرض ہے۔حج سے مراد یہ ہے کہ مقررہ ایام میں حج کی نیت رکھنے والا مسلمان مکہ مکرمہ کا سفر اختیار کرے اور مقررہ مقامات پر حج کے مناسک پورے کرے۔ان مناسک کی تفصیل بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہیں صرف اس امر کی طرف توجہ دلانا درکار ہے کہ مکہ کا شہر اور وادی زمانہ قدیم سے مہبط انوار الہی چلے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو برکت اور ہدایت کا سر چشمہ قرار دیا ہے۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کے ہاتھوں سے یہاں بیت اللہ تعمیر ہوا۔پھر افضل الرسل اور خاتم النبین ﷺ یہاں پیدا ہوئے اور یہیں پرورش پائی اور یہیں جوان ہوئے اور یہیں منصب رسالت آپ کو عطا کیا گیا۔اور قرآن کریم کا نزول بھی یہیں سے شروع ہوا۔اور دنیا کی ہدایت آپ کے سپرد کی گئی اور یہیں سے وہ روحانی چشمہ جاری ہوا جو اصل زندگی کا چشمہ ہے۔جو شخص اس سے سیراب ہوتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔جو اس سے محروم رہتا ہے وہ حقیقی زندگی سے محروم رہتا ہے۔اسلام نے یہ نظام قائم کیا ہے کہ ہر محلہ کے مسلمان دن رات میں پانچ دفعہ اپنے محلہ 107