ایک عزیز کے نام خط — Page 109
ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور اس کی بعض خصوصیات کو تمہارے ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ حصہ اسلامی تعلیم کا ایک نہایت ضروری حصہ ہے۔کیونکہ اس کی طرف پہلے زمانوں میں بہت کم توجہ کی گئی ہے۔اور ساتھ ہی اس وجہ سے بھی یہ ضروری ہے کہ باقی مذاہب میں اس کے مقابل کوئی ہدایات نہیں پائی جاتیں۔استقدر تو ہر شخص کو تسلیم ہے کہ ہر مذہب نے یہ تعلیم دی ہے کہ انسان کے اخلاق اچھے ہونے چاہئیں۔اور فی الجملہ ہر مذہب نے اپنے پیرؤوں سے کہا ہے کہ سچ بولیں، کسی کا حق نہ ماریں قتل و غارت نہ کریں وغیرہ لیکن نہ تو کسی نے فلسفہ اخلاق پر بحث کی ہے نہ اخلاق کے درجے مقرر کئے ہیں اور نہ اخلاقی تربیت اور ترقی کے طریق سکھائے ہیں۔یہ خصوصیت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اسلام نے ان امور کی طرف توجہ کی ہے اور اخلاقی تربیت اور ترقی کی راہیں بتا کر اس کو سہل الحصول کر دیا ہے۔ان امور پر مفصل بحث حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی میں فرمائی گئی ہے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی کتاب احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں بھی ان امور کی وضاحت کی گئی ہے۔یہ دونوں کتابیں گہرے مطالعہ اور توجہ کے لائق ہیں اور تمہیں ان کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔فلسفه اخلاق اچھے اور برے عمل کی کیا تعریف ہے؟ اس ضمن میں جانا چاہئے کہ اسلام نے خیال کو بھی عمل میں شامل کیا ہے۔اور خیالات اور ظاہری اعمال دونوں کی اصلاح کی تعلیم دی ہے کیونکہ خیال در اصل منبع ہے عمل کا۔لیکن فی الحال ظاہری اعمال کو ہی مد نظر رکھتے ہوئے پہلی بات جو تمہیں ذہن نشین کر لینی چاہئے وہ یہ ہے کہ کوئی فعل محض بحیثیت ایک فعل کے اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ فاعل کی نیت اور فعل کے محل کے لحاظ سے اچھا یا برا ہو جاتا ہے۔یہ تو ظاہر ہے که تمام اعمال چند بالا رادہ حرکات کی صورت میں انسان سے ظاہر ہوتے ہیں اور یہ حرکات 109