ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 49 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 49

کے مقابلہ پر قرآن مجید کی یہ سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا اپنا کلام ہے اور اُسی کے الفاظ ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئے اور جو بغیر تحریف اور تبدیلی کے محفوظ ہیں۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی یہ خصوصیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی استثناء باب 18 میں بھی بیان ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں ان کے ( یعنی بنی اسرائیل کے) لئے ان کے بھائیوں (یعنی بنو اسمعیل) میں سے تجھ سا ( یعنی صاحب شریعت ) نبی بر پا کرونگا۔اور اپنا کلام ( یعنی قرآن کریم ) اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُس سے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔رسول اللہ ﷺ کے منکرین تو کہتے ہیں کہ قرآن کریم نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی تصنیف ہے لیکن بعض مسلمان کہلانے والے بھی اس زمانہ میں ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ یہ تھے تو اللہ تعالیٰ کے سچے نبی اور جو کچھ قرآن کریم میں درج ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل ہوا لیکن قرآن کریم کے الفاظ خدا کے الفاظ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے الفاظ ہیں۔اس سے متعلق یاد رکھنا چاہیئے کہ اول تو جب رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور لفظ بلفظ وہی ہے جو مجھ پر نازل ہو ا تو پھر کسی شک اور تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی لیکن اسکے علاوہ قرآن کریم کی عبارت کا اپنا اسلوب بھی یہی بتاتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور یہی دعویٰ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر موجود ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ کا مسلمہ کلام احادیث نبوی کی صورت میں الله ہمارے سامنے موجود ہے اور قرآن کریم کی عبارت اور رسول ﷺ کے کلام کی خصوصیات کا مقابلہ کرنے سے خوب واضح ہو جاتا ہے اور ہر انسان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ دونوں کلام ایک ہی ہستی کے کلام نہیں ہیں۔رسول اللہ ﷺ کا اپنا کلام عموماً چھوٹے چھوٹے جملوں میں ہوتا ہے جو زیادہ تر جمالی رنگ کا کلام ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ہلکی ہلکی خوشبو دار بوندیں پڑ رہی ہوں اور قرآن کریم کی عبارت زیادہ تر جلالی کلام ہے اور اس کی مثال ایک بحرز خار کی ہے جواندا چلا آ رہا ہے۔49