ایک عزیز کے نام خط — Page 48
ہوتا ہے۔یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں ایک بات بجلی کی چمک کی طرح اپنی منشا کے ماتحت ڈال دیتا ہے اور پھر وہ بات شدت سے انسان کے دل میں راسخ ہو جاتی ہے۔ایسی بات بھی الہی تفہیم یا الہامی کہلا سکتی ہے۔لیکن گو وہ بات یعنی اس کا مفہوم الہی ہوتا ہے لیکن اس کے الفاظ انسان کے اپنے ہوتے ہیں۔مثلاً پرانی مذہبی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اوائل زمانہ میں انبیاء کو وتعلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامی تعلیم زیادہ تر رویائے صالحہ یا کشوف کے رنگ میں دی جاتی تھی اور گو انہیں الہام یا وحی کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا شرف ضرور حاصل ہوا ہوگا لیکن اس الہام یا وحی کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں یا بہت کم محفوظ ہیں۔لیکن جوں جوں شریعت کی شوکت اور اس کی تفاصیل بڑھتی گئیں تصویری اور کشفی صورت سے بڑھ کر شریعت الفاظ کی صورت میں نازل ہونے لگی۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں خالص الہام اور وحی کا پتہ چلتا ہے۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے متعلق تو قرآن کریم میں ذکر ہے كَلَّمَ اللهُ مُوسى تَكْلِيمًا۔یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی" کے ساتھ کلام کیا لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت موسے علیہا السلام پر جو کلام نازل ہو اوہ اپنے الفاظ میں محفوظ نہیں بلکہ اس کا مفہوم ان انبیاء کے الفاظ میں اُن کی امتوں کو پہنچایا گیا۔چنانچہ گو حضرت موسی کی امتوں پہنچایا تعلیم کا اکثر حصہ تفصیلی طور پر موجود ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں نہیں بلکہ زیادہ تر حضرت موسیٰ" کے الفاظ میں ہے۔قرآنی خصوصیت لیکن رسول اللہ ﷺ پر جو کلام نازل ہو اوہ تمام تر بعینہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں محفوظ ہے اور وہ قرآن کریم ہے اور اسی لئے اسے کلام اللہ بھی کہتے ہیں۔دوسری مذہبی کتب سورة النساء - آیت 165 48