ایک عزیز کے نام خط — Page 67
آپ نے دیکھا کہ ایک آقا اپنے کسی غلام کو کوڑے مارنے کو ہے۔آپ نے سختی سے اس کو پکارا کہ کیا کرتے ہو۔وہ آپ کی آواز سن کر چونک پڑا۔اور اس نے فوراً کہا یا رسول اللہ ! میں نے اسے آزاد کیا۔آپ نے فرمایا اگر تو ایسانہ کرتا تو جہنم کی آگ تیرے چہرے کو چھوتی۔اور یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ اسلام میں صرف ایک صورت ہی غلام بنانے کی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی قوم جبر سے لوگوں کو اسلام لانے سے روکتی ہو یا اسلام ترک کرنے پر مجبور کرتی ہو اور آزادی ضمیر کے لئے اس کے ساتھ جنگ کی جائے اور اس جنگ میں اس قوم کے لوگ قید ہو کر آئیں اور پھر اس قوم کے لوگ نہ اس کا مبادلہ کر سکیں اور نہ فدیہ ادا کریں تو وہ قیدی غلام بنائے جاسکتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے دوسرے لوگوں کو روحانی غلامی میں ڈالنا چاہا تھا۔اس لئے ان کی سزا یہ مقرر ہوئی کہ انہیں جسمانی غلامی میں ڈالا جائے لیکن بار ہا ایسا ہوا کہ ایسے غلام مسلمانوں میں رہ کر اسلام لے آئے اور وہی نور جسے وہ لوگوں سے روکتے تھے ان کے دلوں اور جانوں کو منور کرنے لگا اور ان کی ابدی آزادی کا باعث بن گیا۔اور یوں بھی آپ کیقیموں اور بیواؤں اور بے کسوں کی خبر گیری میں مستعد رہتے تھے اور جہاں دیکھتے تھے کہ کسی غلام سے ایسی مشقت کا کام لیا جاتا ہے جو اس کی طاقت سے باہر ہے یا اس کے لئے باعث تکلیف ہے تو اس کی مدد فرماتے تھے اور اس کا ہاتھ بٹاتے تھے۔گو یہ آخری قسم کے واقعات حضور کی مکی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں کیونکہ مدینہ میں تو بوجہ حاکم ہونے کے آپ نے حکما ایسی باتیں منع فرما دی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضور کی سیرت کے اس پہلو کو کس خوبی کے ساتھ بیان فرمایا ہے خواجه و مر عاجزان را بنده پادشاہ و بے کساں را چاکرے 67