ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 66 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 66

حاضر ہوئے تا زید کو واپس خرید کر ساتھ لے جائیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زید کو اختیار ہے جہاں چاہے جائے۔لیکن زید نے آپ سے جدا ہونے سے انکار کر دیا۔اس کے باپ نے حیرانی کا اظہار کیا اور زید سے کہا کہ تو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے؟ زید نے کہا ان کی غلامی مجھے ہزار آزادیوں سے بہتر ہے۔چنانچہ اس کے عزیز مایوس واپس چلے گئے۔لیکن رسول اللہ ﷺ نے فوراً اسے کعبہ میں لے جا کر آزاد کر دیا۔حضرت انس کئی سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بطور ملا زم کے رہے اور وہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس تمام عرصہ میں رسول اللہ ﷺ نے کبھی اُف تک نہیں کہی۔22 مئی آپ ﷺ ہمیشہ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرماتے تھے۔آپ کا ارشاد تھا کہ جیسا کپڑا آقا پہنے ویسا ہی غلام کو پہننے کے لئے دے اور جیسا کھانا خود کھائے ویسا ہی غلام کو کھانے کے لئے دے۔اور اگر اسے ایسا کام کرنے کو دے جو مشقت کا کام ہو تو خود بھی اس کام میں اس کی مدد کرے۔اسی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ جب حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں یروشلم فتح ہوا اور وہاں کے بشپ نے اصرار کیا کہ مسلمانوں کا خلیفہ خود یروشلم آئے تا اس کے سامنے ہم اطاعت قبول کریں۔اور حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کا سفر اختیار کیا اور آپ کے ساتھ ایک غلام تھا اور دونوں کے پاس ایک ہی اونٹنی تھی۔تو آپ نے اصرار کیا کہ ایک منزل غلام سوار ہو اور ایک منزل آپ سوار ہوں۔اور جب یروشلم کے قریب پہنچے تو غلام کے سوار ہونے کی باری تھی۔اور غلام اونٹ پر سوار تھا اور عمر بن خطاب خلیفتہ الرسول، امیر المؤمنین، شاہ عرب اس اونٹنی کی رسی پکڑے ہوئے پیدل چلے آرہے تھے۔، آنحضرت ﷺ غلاموں کو آزاد کرنے کی بھی تلقین فرماتے رہتے تھے اور غلام کو آزاد کرنا اسلام میں بہت ثواب کا کام سمجھا جاتا تھا۔ایک دفعہ آپ کہیں سے گذر رہے تھے۔66