ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 47 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 47

ہے اور اس کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ انسان محسوس کر لیتا ہے کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہ یا تو اپنی ظاہر حالت میں اور یا اپنی تعبیر کے مطابق پوری ہو جاتی ہے۔اور اگر اس میں کوئی انذاری پہلو ہوتا ہے تو یا تو دعا اور صدقہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اُسے ٹال دیتا ہے اور یا وہ پورا ہو جاتا ہے۔کیونکہ انذاری خوابوں سے اللہ تعالیٰ کا منشا یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنے بندوں کو آگاہ کر دے تاوہ صدقہ اور دُعا اور اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو بسا اوقات اللہ تعالیٰ آنے والے خطرہ کو ٹال دیتا ہے کیونکہ اس نے فرمایا ہے کہ میری رحمت ہر شے پر غالب ہے۔پھر رؤیا سے بڑھ کر کشوف کا درجہ ہے۔اور کشف سے مراد یہ ہے کہ انسان نیم بیداری یا کامل بیداری کی حالت میں ایک نظارہ دیکھتا ہے۔اس طور پر کہ جیسے ایک پردہ ہٹا دیا گیا ہے اور اس کے سامنے ایک نظارہ پیش کیا گیا ہے اور پھر وہ بھی اپنی اصل صورت میں یا اپنی تعبیر کے مطابق پورا ہو جاتا ہے۔اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ رویا یا کشف میں کسی آنے والے وقت کی طرف اشارہ نہیں ہوتا محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت اور شفقت اور بندہ نوازی کا اظہار ہوتا ہے جس سے دیکھنے والے انسان کی روح خوشی سے معمور ہو جاتی ہے اور عشق الہی کی چنگاری اس کے دل میں اور تیز ہو جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں پہلے کی نسبت بہت تیزی سے قدم اٹھانے لگتا ہے۔اور کشف سے بڑھ کر پھر خالص الہام اور وحی کا سلسلہ ہے اور اس کی کئی اقسام ہیں۔اور بعض حالتیں اس کی نسبتاً ضعیف ہیں اور بعض نہایت پر شوکت اور پر جلال ہیں۔بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے کہ ایک آواز سنائی دیتی ہے جیسے پردہ کے پیچھے سے کوئی شخص کلام کر رہا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ گویا کوئی شخص سامنے کھڑا نظر آتا ہے جو کلام کرتا ہے۔اور بعض دفعہ براه راست الفاظ دل پر اترتے ہیں جیسے گھنٹی بجتی ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ الہامی کلام انسان کی زبان پر جاری کر دیا جاتا ہے۔لیکن جو نکتہ یادر کھنے کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ خالص الہام یا وحی کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ کلام اللہ تعالیٰ کا کلام 47