ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 19 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 19

زمانہ بھی ابھی بہت بعید تھا لیکن انسانی روح اس پانی اور مٹی میں اسی رنگ میں موجود تھی جیسے گلاب کے پھول کی مہک اور گلاب کا عطر باغ کی مٹی میں موجود ہوتا ہے۔رُوح کی پیدائش کی ابتدائی کڑی بھی مادہ کی ابتدائی کڑی کی طرح امر الہی ہی ہے گو اس کے علیحدہ ظہور کے لئے ایک خاص وقت معین ہے۔جب بچہ ماں کے پیٹ میں ایک خاص حد تک نشود نما پا چکتا ہے تو ایک مہک یا عطر کے طور پر اسی میں سے اس کی رُوح پیدا کی جاتی ہے۔اور ایک نئی خلقت اور نئی زندگی اس کو عطا ہوتی ہے پھر اپنے وقت پر یہ جسم و جان کا مرکب ایک علیحدہ اور الگ ہستی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور اس ظہور کو عرف عام میں پیدائش کہتے ہیں۔جانوروں اور انسان کی روح میں بڑا فرق یہ ہے کہ انسان کی رُوح میں اپنے خالق سے قرب حاصل کرنے کی تڑپ اور استعداد رکھی گئی ہے جو یا تو جانوروں کی روح میں مفقود ہے یا وہ ایسی کمزور ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔زندگی کی انواع اب یہاں ٹھہر جاؤ اور زندگی کی مختلف انواع اور اقسام پر غور کر وکس قدر رنگارنگ کی ی مخلوق ہے۔کیا کیا طاقتیں اور استعدادیں مختلف قسم کی مخلوق میں رکھی گئی ہیں کیسی ترتیب ہے کیا حسن اور دلفریبی ہے اور کیا کیا فوائد ہر قسم کی مخلوق کے ساتھ وابستہ ہیں اور یہ تو ایک نہایت سرسری معائنہ اور پڑتال ہے۔ہرفن کے ماہرین جب اس تمام مخلوق کے خواص پر غور کرتے ہیں تو ان کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔ایک جسم انسانی ہی کو لیکر غور کرو۔اس کی طاقتوں اور استعدادوں کی انتہا نہیں۔جسم کے ہر حصہ کا دوسرے کے ساتھ رشتہ اور جوڑ اور ہر حصہ کے اندر اپنے فرائض کے پورا کرنے کی طاقت اور استعداد۔اور اسی کے مطابق اس کی بناوٹ اور اس کے خواص۔جلد ہی کو دیکھو یہ کس قدر رزم اور لچکدار اور ساتھ ہی کس قدر مضبوط اور 19