ایک عزیز کے نام خط — Page 18
طریقہ اسیج نے پچھلے سالانہ جلسے کے موقع پر ایک مفصل تقریر فرمائی تھی۔جب وہ تقریر چپ جائے تو تمہیں توجہ کے ساتھ اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔اور اس کے ساتھ ہی حضور کی اس تقریر کا بھی جو حضور نے 1937ء کے سالانہ جلسہ پر فرمائی تھی اور جو انقلاب حقیقی“ کے نام سے چھپ چکی ہے)۔انسان کے مٹی سے پیدا کئے جانے میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ اس کی سرشت نرم مٹی کی طرح بنائی گئی ہے۔یعنی انسان کی طبیعت بیرونی اثر قبول کرتی ہے اور جس طرف اور جس طرح اس کو ڈھالا جائے یہ ڈھالی جا سکتی ہے اور جس طرح نرم مٹی پر جونقش ہم چاہیں جما سکتے ہیں اسی طرح فطرت انسانی بھی نقش قبول کر سکتی ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ انسان کی سرشت کے اندر لا انتہا ترقی کی استطاعت اور طاقت رکھی گئی ہے۔گوانسان کی پیدائش کی ابتداء پانی اور مٹی سے ہوئی لیکن ابتدائی حالتوں سے گذر کر جب اس کے حیوان کامل کی شکل اختیار کرنے کا دور قریب آیا تو انسان کی پیدائش نطفہ سے شروع ہوئی اور گویا میاں بیوی اور کنبہ اور قوم اور تمدن اور معاشرت کی بنیاد رکھی گئی اور آہستہ آہستہ پھر اس نے انسان کی شکل اختیار کی۔انسانی روح کی پیدائش یہ تو مختصر طور پر انسان کی جسمانی پیدائش کا خاکہ ہے لیکن انسان کی ایک پیدائش اس سے بھی بڑھ کر اور اس سے کہیں اعلیٰ ہے اور وہ اس کی روح کی پیدائش ہے۔جیسے اس ابتدائی پانی اور مٹی میں انسانی خواص شروع سے ہی رکھدیئے گئے تھے اور ترقی کرتے کرتے آخر اس سے انسان ہی پیدا ہونا تھانہ کہ کوئی اور شے یا جانور۔اسی طرح اس ابتدائی پانی اور مٹی میں وہ خواص اور صفات اور استعدادیں بھی رکھی گئی تھیں جن سے انسانی روح پیدا ہوئی تھی۔گو جیسے جسمانی شکل کی تکمیل کیلئے ہزاروں صدیاں مقدر تھیں ویسے ہی انسانی روح کی پیدائش کا 18