ایک عزیز کے نام خط — Page 20
سردی اور گرمی کا مقابلہ کرنے کی طاقت اپنے اندر رکھتی ہے۔کیسے کامل طریق پر جسم کی حفاظت کرتی ہے۔کتنے لاکھوں کروڑوں سوراخ اس میں ہیں جو اس کی نرمی اور لچک کا باعث ہیں، جو پسینہ کو باہر نکالتے ہیں لیکن خون کو باہر نکلنے نہیں دیتے۔پھر جلد کے ساتھ بالوں اور ناخنوں کا تعلق اور ہزاروں ہزار تفاصیل اور پھر جلد کے ساتھ وابستہ کروڑوں نالیاں جو خون کو ادھر سے اُدھر پہنچاتی ہیں۔پھر انسانی جسم کے اندر رنگارنگ کی تفاصیل اور انتظام اس قدر باریک اور پیچیدہ کہ دنیا کے بڑے سے بڑے کارخانہ میں بھی ان کی مثال نہ ملے گی۔اور پھر یہ تمام نظام کسی وحدت اور یکجہتی اور پھرتی کے ساتھ کام کرتا ہے اس کا اندازہ تم خود کر لو تمہیں ایک ضرورت محسوس ہوتی ہے۔تمہارا دماغ اس سے متعلق حکم جاری کرتا ہے، یہ حکم اعصابی مرکزی دفتر کو پہنچتا ہے۔وہ اس پھرتی سے اسکو جسم کے کناروں تک پہنچا تا اور اس پر عمل کرواتا ہے کہ تمہیں خود بھی محسوس نہیں ہوتا کہ اس قدر مراحل سے تم گذرے ہو۔بس تمہارے دل میں خواہش پیدا ہوئی اور تمہارے اعضاء نے حالات کے مطابق یہ خواہش پوری کردی۔اگر تم غور کرو تو تمہارے اندر ایک پورا جہان بستا ہے۔اپنے دل اور اس کے احساسات پر غور کرو۔اپنے دماغ اور اس کی کیفیات اور تخیلات کا مطالعہ کرو۔دل میں کیا درد، کیا حسرت، کیا پریشانیاں، کیا لطف ، کیا خوشی ، کہیں ہمدردی کا جذبہ، کہیں غیرت، کہیں انتقام کی خواہش، کہیں بجز کہیں انکسار، کہیں محبت، کہیں مخالفت، پھر تخیلات میں وہ وسعت اور وہ رنگینیاں کہ سبحان اللہ اور یہ سب غیر ماڈی باتیں ہیں۔ماڈی باتیں کھانا پینا، دوڑ نا کودنا، کھیلنا، تیرنا ہضم کا فعل ، بھوک پیاس ، عمدہ نظاروں کا دیکھنا، خوشبوئیں سونگھنا، عمدہ لباس پہننا وغیرہ یہ سب کچھ الگ۔تمہارے والدین عزیز، دوست ، واقف ، ہم جماعت، پروفیسر، عام ملنے والے، ہر ایک اپنے اپنے وہم میں سمجھتا ہے کہ تم ایسے ہو، ایسے ہو۔تمہارے اندر فلاں صفت ہے، فلاں خوبی ہے فلاں حسن ہے، فلاں خامی ہے، فلاں نقص ہے۔لیکن تم اپنے دل میں خوب جانتے ہو کہ تم وہ نہیں ہو جو لوگ تمہیں سمجھتے ہیں۔اول تو ہر ایک کی نگاہ میں تمہاری ایک الگ تصویر ہے اور پھر اپنی نگاہ میں تم کچھ اور ہی ہوتی کہ جب تم آئینہ میں دیکھتے ہو تو 20