ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 131 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 131

اقتصادی نظام اب میں اسلام کے اقتصادی نظام سے متعلق مختصر ا چند اصول بیان کرتا ہوں۔کیونکہ آج کل مغرب میں ان امور سے متعلق بہت بحث مباحثہ رہتا ہے اور ان میں بھی افراط اور تفریط کی راہیں اختیار کی گئی ہیں۔اور ہمارے نوجوان اسلام کی تعلیم پر غور کئے بغیر اپنے لئے بعض رستے تجویز کر لیتے ہیں جو ان کی زندگیوں پر بہت مضر اثر ڈالتے ہیں۔اول تو یہ امر ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اسلام نے تمام امور میں ایک زریں اصل مقرر کیا ہے اور وہ یہ ہے خَيْرُ الْأُمُوْرِ أَوْسَطُها یعنی ہر معاملہ میں درمیانی رستہ سب سے بہتر ہوتا ہے۔اقتصادیات میں بھی اسلام نہ تو کلی طور پر انفرادیت کا حامی ہے اور نہ کلّی طور پر اشتراکیت کا۔اسلام ایک حد تک انفرادی ملکیت کے اصول کو تسلیم کرتا ہے۔کیونکہ اول تو مختلف انسانوں کی مختلف استعدادیں ہوتی ہیں پھر بعض ان استعدادوں کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہیں اور بعض نہیں کرتے۔اور ہر ایک قسم کے استعمال کے درجے ہیں اور پھر مختلف انسان مختلف معیاروں کے مطابق کام اور محنت کرتے ہیں اس لئے لازم ہے کہ اُن کی استعدادوں اور اُن کی محنت کا اجر بھی مختلف پیمانوں کے مطابق ہو۔اور پھر انسانی فطرت ہی ایسی ہے کہ اگر انفرادی اجر اور ملکیت کی طمع نہ ہو تو اکثر انسان اپنی استعدادوں کو پورے طور استعمال کرنے اور پوری محنت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔لیکن انفرادیت ملکیت کے اصول کو تسلیم کر لینے کے بعد اسلام نے اس پر کئی قسم کی پابندیاں لگادی ہیں جن کے نتیجہ میں اس اصول کے انتہائی استعمال سے جو خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اس کا خود بخودازالہ ہو جاتا ہے۔مثلاً اسلام کا بنیادی اقتصادی اصول یہ ہے کہ دولت کے پیدا کرنے میں صرف سرمایہ دار اور کام کرنے والے مزدور کا ہی دخل نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کا بھی حصہ ہے ظاہر ہے کہ دنیا کا اصل سرمایہ جس سے آخر میں تمام قسم کی دولت پیدا ہوتی ہے یعنی زمین اور اُس 131