ایک عزیز کے نام خط — Page 132
کے تمام خزائن اور طاقتیں اور ہوا، سورج چاند ستارے وغیرہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں جو اس نے اپنی طرف سے انسانوں کو ہبہ کی ہیں تو گویا دولت کے پیدا کرنے میں ایک تو سرمایہ دار شامل ہوتا ہے دوسرے مزدور اور تیسرے تمام بنی نوع انسان جن کی خدمت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تمام کائنات پیدا کی ہے۔اس لئے دولت میں صرف سرمایہ دار اور مزدور کا ہی حصہ نہیں نکالنا چاہیے بلکہ عام بنی نوع انسان کا حصہ بھی نکالنا چاہیے اور اسلام نے اس حصہ کا نام زکوۃ رکھا ہے جس کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ حصہ نہ نکالا جائے تو باقی حصہ دولت کا پاک نہیں ہوتا۔کیونکہ اس دولت میں کسی اور کا حصہ بھی شامل ہے اور جب تک سب حصہ داروں کے حصے نہ نکالے جائیں دولت کی تقسیم جائز نہیں سمجھی جاسکتی۔لیکن زکوة محض صدقہ یا خیرات نہیں جیسے عام طور پر آجکل خیال کر لیا گیا ہے بلکہ یہ ایک ٹیکس ہے جو راس المال اور آمد دونوں پر لگتا ہے اور اس کا ادا کرنا ہر اس شخص پر فرض ہے جو صاحب نصاب ہے اور اس کے متعلق قرآن کریم میں بار بار تاکید آئی ہے۔اسلام میں زکوۃ کی شرح مقرر ہے اور اُس کے خرچ کے مقاصد مقرر ہیں۔حکومت کا فرض ہے کہ اس ٹیکس کو جمع کر کے صرف ان مقاصد پر خرچ کرے جو اس کا جائز مصرف ہیں۔حکومت کو اختیار نہیں کہ اسے اپنے عام فرائض کی تکمیل میں خرچ کرے مثلاً زکوۃ کا اول مصرف تو یہ ہے کہ جو عملہ اس کے جمع کرنے پر مقرر ہو اس کی اُجرت اس میں سے ادا ہو۔پھر غرباء اور مساکین کی پرورش اور اُن کی ترقی کے سامان بہم پہنچائے جائیں۔پھر ایسے لوگوں کو وظائف دیئے جائیں جو علمی تحقیقات اور ایجادوں وغیرہ میں لگے رہتے ہیں اور اپنی روزی نہیں کما سکتے۔پھر ایسے لوگوں کے لئے بھی اسی میں سے سرمایہ بہم پہنچایا جائے جوکسی پیشہ یافن یا صنعت وحرفت میں مہارت رکھتے ہیں لیکن سرمایہ نہیں رکھتے کہ کام شروع کر سکیں۔افسوس کہ مسلمانوں نے زکوۃ کی ادائیگی اور اُس کے مصرف کے انتظام کو ترک کر دیا ہے ورنہ اکثر اقتصادی مشکلات اور ضروریات کا حل اس میں موجود تھا۔132