ایک عزیز کے نام خط — Page 106
روزے کے دوران میں جیسا تمہیں علم ہے کھانا پینا اور میاں بیوی کے تعلقات منع ہیں۔اور یہ ہدایت ہے کہ روزہ کے دوران میں اور رمضان کے مہینے میں تمام مہینہ انسان ذکر الہی کی طرف زیادہ توجہ کرے اور قرآن کریم کا زیادہ مطالعہ کرے اور اگر باقی ایام میں تہجد کے نفل نہ بھی پڑھتا ہو تو رمضان میں ضرور پڑھے اور عام دنیاوی مشاغل میں جس قدر ممکن ہو تخفیف کر دے اور صدقہ و خیرات کی طرف عام اوقات کی نسبت زیادہ مائل رہے اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرے۔رمضان کے بہت سے فضائل ہیں جن کا بیان بہت تفصیل چاہتا ہے لیکن میں اپنے ذوق کے مطابق بعض پہلو مختصر طور پر بیان کئے دیتا ہوں۔انسان کی زندگی کا قیام جسمانی طور پر کھانے پینے پر منحصر ہے اور نسل انسانی کا بقا میاں بیوی کے تعلقات پر منحصر ہے۔روزہ کے دوران میں انسان ان دونوں سے اجتناب کرتا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک قسم کی شہادت پیش کرتا ہے کہ میں تیری رضا کی خاطر ان اسباب کو جن پر میری زندگی اور میری نسل کے بقا کا مدار ہے ترک کرتا ہوں۔اور گو یہ ترک کرنا عارضی ہوتا ہے( کیونکہ روزہ سے اللہ تعالیٰ کی مراد انسان کی زندگی یا اس کی نسل کو ختم کر دینا نہیں بلکہ ان میں اصلاح اور برکت اور ترقی مقصود ہے ) لیکن اس عارضی قربانی کو انسان بطور ایک عہد کے پیش کرتا ہے کہ اگر تیرے رستہ میں ضرورت پیش آجائے تو میں کلی طور پر اپنی زندگی اور اپنی نسل قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔یہ ایک بہت بڑا عہد اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اگر انسان اخلاص کے ساتھ یہ عہد کرے اور اس کے پورا کرنے کے لئے تیار رہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سی برکات اور انعامات کا مورد ٹھہرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا بھوکا اور پیاسا رہنا روزے کی غرض نہیں ہے بلکہ تمہارا تقویٰ اصل مقصود ہے۔اور دیگر فوائد روزے کے یہ ہیں کہ انسان کو جسمانی آرام کی قربانی کی مشق ہو جاتی ہے اور وہ بھوک اور پیاس کی برداشت کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔اور روزہ امیر اور غریب کے درمیان ایک مساوات کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور امیروں کو بھوک کا احساس پیدا کر کے 106