ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 105 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 105

تڑپ ہے جسے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ بجھانا اور ٹھنڈا کرنا چاہتا ہے۔اور جیسا میں کہ چکا ہوں دعا کا اصل وقت تو نماز ہی ہے۔کیونکہ نماز تمام ترحم اور تسبیح اور دعا ہے اور نماز کا وقت خصوصیت سے قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے لیکن نماز کے اوقات سے باہر بھی انسان کو جو کہیں موقعہ ملے دعا کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار فرمایا ہے کہ ایک مومن کے لئے کیا یہ کم خوشی اور اطمینان کا مقام ہے کہ اس کا خدا ہر بات پر قادر ہے اور دعاؤں کوسنتا اور قبول کرتا ہے۔دعا کی قبولیت کے لئے بہت سے لوازم ہیں لیکن سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان ہو اور اس وثوق سے دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور اس کے سامنے کوئی بات انہونی نہیں۔گو یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ وہ آقا اور مالک ہے اور گو وہ نہایت شفیق اور رحیم ہے اور دعاؤں کو قبول کرتا ہے لیکن وہ انسان پر حاکم ہے۔يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ اور پھر انسان کو ہمیشہ یہ علم بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک دعا جو وہ کر رہا ہے اس کا قبول ہو جانا اس کے لئے مفید ہے یا مضر۔اس لئے اللہ تعالیٰ جو کہ عالم الغیب ہے اور ہر بات کے انجام کو جانتا ہے بعض دفعہ اس لئے دعا کو قبول نہیں کرتا کہ اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ دعا قبول نہ کی جائے کیونکہ اس کی قبولیت دعا کر نیو الے کے حق میں مضر ثابت ہوگی۔لیکن وہ کسی کے اخلاص کو ضائع نہیں کرتا اور اگر دعا نیک نیتی اور اخلاص سے کی جائے تو اس کا اجر انسان کو ضرور ملتا ہے خواہ کسی رنگ میں ہو۔اس لئے انسان کو دعا کرنے میں اپنے رب کی آزمائش نہیں کرنی چاہئے اور نہ اپنے دعوی عشق و وفا کومشروط کرنا چاہئے۔روزه نماز کے پہلو بہ پہلو ایک اور اہم عبادت روزہ ہے۔رمضان کے روزے تو ہر مسلمان پر فرض ہی ہیں سوا ایسی حالتوں کے جو مستثنی کی گئی ہیں۔اور اس کے علاوہ نفلی روزے ہیں۔105