ایک عزیز کے نام خط — Page 21
حیرت سے خیال کرتے ہو کیا میں وہی ہوں جسے میں دیکھ رہا ہوں۔نہیں یہ تو میں نہیں ہوسکتا۔میرے ذہن میں تو اپنی اور ہی تصویر ہے۔۔تمہاری اپنی الگ دنیا ہے۔الگ تختیل کا عالم ہے۔الگ قلبی کیفیات ہیں۔کسی اور کو ان میں دخل نہیں۔مگر اس حد تک جس حد تک کہ تم خود کسی کو اجازت دو لیکن ہے یہ کہ ایک پورا عالم اور اس جذبات اور کیفیات کے جہان کے خود ہی راہ نما ہو۔خود ہی محافظ اور نگہبان ہو۔اب تم اندازہ کرو کہ تمہاری ذمہ داری کس قدر وسیع اور کس قدر بھاری ہے اور یہ کس قدر ضروری ہے کہ تم اس ذمہ داری کے سب پہلوؤں کو شناخت کرلو اور پورے علم اور فکر کے بعد زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہو۔اور اس کے خطرات سے بچتے ہوئے اس عالم کو حفاظت اور سلامتی کے رستہ پر چلاتے جاؤکتی کہ اپنے مقصد کو پالو۔انسان پر خدائی انعامات غور کرو تمہارا سفر کہاں سے شروع ہو ا تھا اور کن مراحل سے تم گذر چکے ہو؟ تم پہلے برقی بلبلوں کی شکل میں معرض وجود میں آئے۔پھر ذرات میں تبدیل ہوئے۔پھر پانی اور مٹی میں منتقل ہوئے پھر درجہ بدرجہ تم بڑھے۔بشر بنے پھر آدم بنے۔پھر کئی نسلیں انسانی گذریں تب بالآخر حضرت مسیح ناصری کے زمانہ کے انیس سو اور اکیس سال بعد تمہاری ہستی کا الگ وجود دنیا میں قائم ہوا۔تمہارے لئے زمین بنائی گئی اور اس کے تمام خزانے مہیا کئے گئے۔سورج بنایا گیا اور اسے روشنی اور گرمی دی گئی۔چاند کومنو رکیا گیا۔آسمان اور ان کے ستارے بنائے گئے۔زمین کو اس کے محور پر گھومنے کا حکم ہو ا۔رات اور دن ، گرمی اور سردی، دھوپ اور سایہ، پہاڑ، دریا، سمندر، جھیلیں ، درخت، پھل، سبزه، اناج، جانور، پرندسب پیدا کئے گئے۔ہوا میں چلائی گئیں۔بخارات بنے۔بادل تیار ہوئے۔خشک زمینوں اور وادیوں پر بر سے۔غرض زندگی کے قیام اور انسانی ترقی کے سب سامان مہیا کئے گئے پھر انسان نے 21