ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 22 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 22

نسلاً بعد نسل دماغی۔اخلاقی اور روحانی ترقی کی۔تمدن قائم ہوا۔حکومتیں قائم ہوئیں۔قوانین بنے۔حفاظت کے سامان تیار کئے گئے۔علوم کا چرچا ہوا۔ایجادیں ہونے لگیں۔جہاز بنے۔ریلیں چلائی گئیں۔موٹریں ایجاد ہوئیں ہوائی جہاز اڑنے لگے۔تار اور ٹیلیفون اور لاسلکی پیغام رسانی اور ریڈیو میسر آئے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ تا بیسویں صدی میں تمہارے لئے آرام کا سامان ہو۔تعلیم کا سامان ہو۔دماغی۔اخلاقی اور روحانی ترقی کے سامان ہو اور پھر ان سب سامانوں سے بڑھ کر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے برگزیدوں سے کلام کیا اور بنی نوع انسان کی اعلیٰ اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے ہدایات نازل فرمائیں۔نوح پر اور ابراہیم پر اور موسی" پر اور مسیح پر اور زرتشت پر اور کنفیوشس اور بدھ پر اور کرشن پر اور رام چندر پر اور ہزاروں لاکھوں اپنے دیگر پیاروں اور برگزیدوں پر اور پھر ان سب کے سردار اور اپنے محبوب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر اور پھر حال کے زمانہ میں اپنے پیارے احمد علیہ الصلوۃ والسلام پر تا تمہیں خدا تعالیٰ کی رضا معلوم کرنے میں کسی قسم کی دقت نہ ہو۔اور تم اس تلاش میں بھولے بھٹکے سر گردان نہ پھرتے رہو اور اس تلاش میں ہی اپنی زندگی نہ کھو بیٹھو۔تم تباؤ کونسی نعمت ہے جو تمہارے لئے مہیا نہیں کی گئی ؟ کونسا سامان ہے جو تمہیں میسر نہیں آیا؟ اور یہ سب کچھ اس لئے کہ تم اپنی زندگی کو اس کے کمال تک پہنچا سکو۔اور خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری ترقی بھی ویسی ہی درکار اور پسند اور محبوب ہے جیسے کسی اور انسان کی۔اگر تم چاہو تو تم اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے اتنا ہی قریب کر سکتے ہو اور اس کی محبت کے اسی قدرمورد ہو سکتے ہو جس قدر کوئی اور۔اور یہ سب انعامات اور سامان ویسے ہی شخصی اور ذاتی طور پر تمہارے لئے پیدا کئے گئے ہیں جیسے کسی اور کیلئے۔اب تم اندازہ کرو کہ تمہاری زندگی کس قدر قیمتی شے ہے۔یہ کتنا بڑا انعام ہے۔یہ کس قدر قابل قدر ہے۔اس کا کس قدر بلند درجہ ہے۔اور تم کس قدر بھاری اور عظیم اور اعلیٰ امانت کے امین بنائے گئے ہو! غور کرو اور سوچو کہ تم اس نظام ارضی و سماوی کے مرکزی نقطہ ہو۔اشرف المخلوقات ہو۔تمہیں اور تمہاری جنس کو وہ قومی، وہ طاقتیں، وہ استعدادیں عطا کی گئی ہیں جو باقی 22