قبول احمدیت کی داستان — Page 24
۲۴ دل میرے ڈال دی تو نے محبت کی جھلک میں تو آخر دم تلک روتا رہا با حالِ زار عرصہ عرفات میں ہے جبل رحمت خود گواہ تھا پکارا میں نے تجھے کو باد و چشم اشکبار یاد کر وہ وقت جب میں در پہ تیرے جا کھڑا دے مجھے رشد و ہدایت تھا زباں پر بار بار گر نہیں ہے میرزائے قادیان تیرا مسیح پھیر دے دل کو مرے ہاتھوں میں تیرے اقتدار گربنا فیضانِ احمد سے غلام احمد مسیح قوم کو میری ہدایت دے نہ ہوں از اہل نار واپس آکر دو سال متواتر مکرم پیر صاحب سے بحث ہو کالمہ میری بیعت ہوتا رہا اور اس عرصہ میں مجھے کئی خواہیں بھی آئیں جن کو میں نوٹ کر لیتا اور میری عقیدت حضرت خلیفہ آسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوگا فیوگا بڑھتی گئی۔آخر میں نے حتمی فیصلہ کر لیا۔اور خدا تعالے نے میرے اندر قوت بھر دی کہ خواہ پیر صاحب ناراض ہوں۔اب خدا تعالے نے عقلی، علمی، روحانی طور پر مجھ پر حجت پوری کر دی ہے۔آپ اگرہ مداہنت سے کام لوگ تو شاید سلب ایمان کا معاملہ نہ ہو جائے۔پس ۱۹۵۴ء کے جلسہ سالانہ پر یہ خاکسار حضور کی دستی بیعت سے مشرف ہوا۔اور میرے ساتھ رائے اللہ بخش ولد احمد منگلا نے بھی بیعت کی۔اور