قبول احمدیت کی داستان — Page 23
خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے اس مقامیم پاک پر چھٹی کے دن کھڑے ہو کر قرآنی دعاؤں اور احادیثی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنے خدا سے یوں مخاطب ہوا۔مولا کریم میں گنہ گا ہ پاکستان سے تیرے اس متبرک مقام پر اس لئے آیا ہوں کہ میرے گناہ بخش اور اگر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی تیرا سچا مسیح موعود ہے اور اس کی جماعت میں شامل ہونا ضروری ہے تو مجھے اس جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔اے میرے مالک اگر قیامت کے روز تو مجھ سے سوال کرے گا۔کہ تو نے مسیح موجود کو کیوں نہ مانا تو اس کا ذمہ دار تو ہوگا۔میں روتے گرتے پڑتے تیرے در پر پہنچ گیا ہوں۔اب آئندہ تو راستہ کھول۔جو حالت دعا اور حالت گریہ اس وقت مجھ پر طاری ہوئی مجھے ساری عمر نہیں بھولے گی گویا میں روز محشر میں حاضر تھا۔اور تعدا تعالے سے آمنے سامنے بات کر رہا تھا۔اور جب مجھے اپنی وہ حالت یاد آتی ہے۔تو سمجھتا ہوں شاید شیخ سعدی نے یہ شعر میرے حق میں ہی کہا تھا۔۔a دلم سے بلرزد چوں یاد آورم مناجات شوریده اندر ح چنانچہ اس سفر سے واپس آکر ایک موقعہ پر میں نے اس واقعہ کی یاد میں یہ چند شعر بھی کہے تھے۔جن میں میں نے اللہ تعالیٰ سے خطاب کرتے ہوئے عاجزی سے کہا تھا کہ :-