قبول احمدیت کی داستان — Page 25
۲۵ بعد میں خاکسار کے ذریعہ سے پیر صاحب کے تمام مرید سوائے چند ایک کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے داخل سلسلہ حقہ ہو گئے۔فالحمد للہ رب العالمین۔الفرقان کے اثرات) ہاں ایک بات لکھتی میں بھول ہی گیا اور جب وہ یہ کہ میرے قبول احمدیت میں رسالہ الفرقان کا بھی حصہ ہے باشندہ میں جبکہ میں ابھی احمدی نہیں ہوا تھا۔ام نگر سے یہ رسالہ نکلنا شروع ہوا۔میں اسی دن سے اس کا خریدار بنا۔ب پہلا پرچہ مجھے ملا تو پڑھ کر اپنے تاثرات ایڈیٹر صاحب مولانا ابو العطاء صاحب کو بھجوائے جو نومبر دسمبر 1924ء کے سالانہ نمبر میں چھپ چکے ہیں۔چونکہ وہ میری آج سے ۱۳ سال پہلے کی رائے ہے۔جو میں نے بیعت سے پہلے ماہنامہ الفرقان کے متعلق لکھی تھی۔امید ہے قارئیں اسے پڑھ کر محفوظ ہوں گے۔لہذا ذیل میں درج کرتا ہوں۔متفرقات کے زیر عنوان درج ہے:- ایک عالم دوست کا گرامی نامہ ضلع سرگودہ اسے ایک عظیم دوست غیر احمدی مولوی صاحب کی طرف دوستکارانی سے ذیل کا مکتوب موصول ہوا ہے :- مکرم معظم شیخ ابو العطاء صاحب اعانكم الله في مرامكم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وجہ کا تہ۔بندہ نے الفرقان کا پہلا پرچہ منگوایا۔دیکھا۔پڑھا۔خدا کی قسم دل کو اتنا پیارا لگا جو بیان سے خارج ہے۔اب ہر وقت یہی تمنا ہے کہ دوسرا پر چہ کب شائع ہوگا۔