قبول احمدیت کی داستان — Page 26
۲۶ مجھے دو چیزوں کا عشق ہے۔یعربی زبان اور دینی لٹریچر پیکیں نے پچھلے سال حرمین شریفین کا سفر بھی کیا ہے۔میں نے البشیر کو دیکھا۔العربیة منگواتا ہوں۔ام القریکی از مکہ مکرمہ پڑھا مصری مجلات دیکھے۔رشید رضا کے رسائل کا مطالعہ کیا جرجی زیدان کے ادبی مضامین سے بھی آگہی ہوئی۔نا صیف یا زجی کی نظمیں بھی پڑھیں۔قندیل، طلوع اسلام - انجمن حمایت اسلام کے دینی رسائل بھی دیکھے۔مگر سچ کتنا ہوں کہ الفرقان ایسا کوئی یال صوری معنوی فضائل سے میرے نہ پایا۔ایک دن میں مکس نے پانچ پانچے دفعہ اس کا بار بار مطالعہ کیا۔ہر دفعہ ایک نئی لذت پیدا ہوئی۔اگر یہ رسالہ اور اس کے مضامین لکھنے والے احمدیہ جماعت کے علاوہ اور کوئی صاحبان ہوتے تو تمام بلاد اسلامیہ میں اس کی شہرت کی کوئی حد نہ رہتی۔مگر صرف یہی بات کہ اس کا انتساب جماعت احمدیہ کی طرف ہے کو ر بین اس کی طرف توجہ نہ کریں گے۔a حسدوا الفتى اذ لم ينالوا سعيه فالقوم اعداءله وخصوم كضرائر المحسناء قلن لوجهها حسداً ولغيا انه لرحيم میرا خیال ہے کہ آپ لوگ خود بھی اس کی وہ قدر نہ سمجھتے ہونگے جو اس کی حقیقی قدر ہے کیونکہ آپ کتنے ہوں گے یہ تو ہمارے ہی لکھے ہوئے مضامین ہیں۔نہیں ، نہیں ، نہیں۔