قبول احمدیت کی داستان — Page 19
19 نہیں کہتے۔ہم کہتے ہم احمدی نہیں صرف مرزا صاحب کو کافر نہیں کہتے۔وہ کتنے جو مرزا صاحب کو کا فرنہ کے وہ خود کافر ہے۔ہم کتنے کہ ہمیں سمجھاؤ۔مرزا صاحب کیوں کا فر ہیں۔وہ دلائل دیتے ہم ان کو جواب دیتے کہ یہ وجوہ کافر بنانے کے لئے کافی نہیں۔چونکہ پیر صاحب کی طرف سے حوالہ جات وغیرہ پیش کرنے والا میں تھا۔مجھے اچھی مزاولت ہوتی گئی اور مسائل ذہن نشین ہوتے گئے۔ہوتے ہوتے ہمارے تمام مریدوں کے عقائد عبد الله معمار سے مناظرہ پختہ ہو گئے کہ میں فوت ہو چکے ہیں۔اور میرا صاحب نیک انسان ہے لیکن ہمیں ان کی بیعت کی ضرورت نہیں۔اور مرزا صاحب کو نیک بزرگ مانتے ہوئے ہمیں اپنی پیری مریدی کا سلسلہ قائم رکھنا چاہیئے۔ایک مرید کی دعوت پر پیر صاحب سلانوالی تشریف لے گئے۔اور وہاں تقسیم ملک کے بعد کافی مہاجر آباد ہو چکے تھے۔اور وہ لوگ ہمارے قائد سے واقف ہو چکے تھے۔انہوں نے ہمیں مرزائی مشہور کر دیا۔اور ہمارے ساتھ مناظرہ کی طرح ڈال دی۔پیر صاحب بھی جو شیلے آدمی تھے۔انہوں نے لکھ دیا کہ میسی فوت ہو چکے ہیں۔اور مرزا صاحب اپنے تمام دعاوی میں پیچھے ہیں۔اس پر مناظرہ رکھا گیا۔انہوں نے راتوں رات مولوی بلوائے ہیں نہ اس قسم کے مناظروں کا پتہ نہ پورا دلائل کا علم بہر حال دوسرے دن عبداللہ معمار امرتسری ان کی طرف سے مناظر مقرر ہوا۔اور خاک از عزیز الرحمن پیر صاحب کی طرف سے مناظر مقرر ہوا۔مجھے کہیں سے احمدیہ پاکٹ بک بھی