قبول احمدیت کی داستان — Page 20
۲۰ مل گئی۔ویسے بھی وفات مسیح کے دلائل ایک کاپی پر جمع کر رکھے تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مناظرہ بہت اچھا ہوا۔اور یہ بھی عجیب قسم کا مناظرہ تھا جس کی نظیر ملنی مشکل ہے کہ نہ ہم احمدی نہ لاہوری نہ قادیانی اور وفات مسیح اور صداقت مرزا صاحب پر مناظرہ کر رہے ہیں۔لیکن اصل میں خدا تعالے ہمیں ٹریننگ دے رہا تھا کہ تم نے احمد کی بن کر تبلیغ کرنی ہے ابھی سے تیاری اور مشق کر لو۔ربع دار الحجرہ کی بنیاد انہیں ایام میں بوہ مرکز احمدیت جب ہمارے علاقہ نا میں آباد ہونا شروع ہوا۔اور سر گو دھا شہر میں بھی کافی احمدی احباب آگئے۔تو میں نے حضرت مسیح موعود کی تمام تصنیفات اکٹھی کرنی شروع کی۔براہین احمدیہ حصہ پنجم پڑھی حقیقة الوحی پڑھی بیتوت کا مسئلہ حل ہو گیا۔ہاں ان دنوں میں نے منہ بله مصلح موعود مسئلہ خلافت پر دونوں جماعتوں کا لٹریچر پڑھا۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر حق واضح کر دیا کہ خلافت برخی اور مرزا صاحب کی تحریرات کی روشنی میں مصلح موعود میرا پیارا محمود ہے۔اس کے بعد میرا اور میرے استاد پیر صاحب کا اختلاف شروع ہوا۔وہ اسی عقیدے پر جم گئے کہ مرزا صاحب نبی نہیں اور نہ ہی خلافت کی ضرورت ہے اور نہ ہی بیعت کی ضرورت ہے۔اور خاکسار ان مسائل کی تہ تک پہنچ گیا۔ا چکا تھا لیکن پیر صاحب کو