عظیم زندگی — Page 31
I جاتے ہیں۔گناہوں اور خطاؤں کا اوپر ذکر تو ہو چکا جو اس دنیا میں بہشت کے محاصل کرنے میں روک بن جاتے ہیں اب ہم ان نیکیوں کا ذکر کرتے ہیں جو جنتی دروازوں کے کھولنے میں مددگار ہوتے ہیں۔محبت ، کشادہ نظری، ہمدردی ، بزرگی، رحم ، ضبط نفس، دیانت، صبر، خلوص، سادگی، استقلال، قناعت ، صفائی، صدقہ ، بشاشت، اخلاص، عدل ، مدد، وقار، جرأت، شرافت، ثابت قدمی، عضو ، مهمان نوازی ، احسان شناسی ، علم ، شفقت ، بے غرضی وغیرہ وغیرہ۔ہر سلمان کو اپنے اندر یہ عادات وصفات پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔انسان اپنے خیالات پر حکومت کرتا ہے اور جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ایک وقت آجاتا ہے کہ انسان وہی بن جاتا ہے جو اس کے خیالات ہوتے ہیں سلوک کی راہوں پر سفر کرنے والے جو جنت کی روشنی پھیلانے کا عزم رکھتے ہیں ان کے لئے پاک اور بلند خیالی ہی لازم ہے جبتک دماغ میں نیست خیالی اور نا پاک خیالات حاوی رہیں گے روحانی رفعتوں میں رکاوٹیں پیدا ہوتی رہیں گی۔اصلاح نفس بڑی حد تک پاکیزہ خیالات پر ہی منحصر ہوتی ہے اور یہی مقصد حیات ہے۔تقومی کی راہیں جنت کے باغوں میں سے ہو کر گزرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرنے کی بار بار تلقین کرتا ہے۔موجودہ حالات پر کبھی قناعت کرنا مناسب نہیں نفس کی مسلسل اصلاح ہر شخص کا مقصد حیات اور مطمح نظر ہونا چاہیئے اس کے علاوہ ایک حقیقی مومن کا اور کوئی مقصد نہیں ہونا چاہیئے اگر چہ اگلی زندگی میں نیک و بد اعمال کرنے کی طاقت تو نہ ہوگی لیکن بہشتی لوگوں کا