عظیم زندگی — Page 29
۲۹ کرنا ہے۔درج ذیل آیت میں قرآن کریم اصلاح نفس کی وضاحت فرماتا ہے : قد أَفْلَحَ مَن تَرکی جو پاک بنے گا وہ یقینا کامیاب ہو جائے گا۔یہی اسلام کے پیغام کی رُوح ہے جو اوپر والی آیت میں بیان کی گئی ہے اس لئے جو اِس حقیقت کو نہ سمجھا اس نے مقصد اسلام کو بھی نہ سمجھا۔قرآن محض نظریاتی کتاب نہیں بلکہ یہ تو ایک آفاقی ہدایت نامہ ہے جو انسان میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے نیز اسی جہان میں جنت مہیا کر سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ دیانت داری اور صدق دلی سے اس کے لئے جدو جہد کی جائے ذیل کی نظم اس کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔( انگریزی سے ترجمہ ) میں اس سے مخاطب ہوں جو اپنے گناہوں سے نبرد آزما ہے۔اور ان پر غالب آجاتا ہے۔اور سال بہ سال اپنے نفس امارہ کے مقابل پر سعی پیہم میں مصروف رہ کر اسے تسخیر کر لیتا ہے مخاطب ہوں اس سے جو غالب ہوا گناہوں کی دیوار سے ٹکرا گیا اسی سلسلہ میں یہ بھی تو کہا گیا ہے " جس نے اپنے نفس پر فتح حاصل کی وہ ملکوں پر فتح حاصل کرنے والے شخص سے عظیم تر ہے " تاریک جذبات و خیالات جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کو مغلوب کرنا بظاہر مجذوب کی بڑے معلوم ہوتی ہے اور منزل ایسی لگتی ہے گویا کہ چاند پر کوئی انتر جائے مگر در حقیقت یہ ایسا نہیں اور منفی انداز فکر ہے۔بلا شبہ نظر یہ بہت تعظیم ہے