عظیم زندگی

by Other Authors

Page 28 of 200

عظیم زندگی — Page 28

YA وو اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَعُيُونِهُ ادْخُلُوهَا بِسَلِمٍ أَمِنِيْنَ ، وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلِ اِخْوَانًا عَلى سُرُرِ تَقْبِلِينَ ٥ (۱۵ : ۲۶تا۴۸) متقی لوگ یقیناً باغوں اورچشموں والے مقام) میں داخل ہوں گے (انہیں کہا جائے گا) کہ تم سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر ) ان میں داخل ہو جاؤ اور ان کے سینوں میں جو کینہ (وغیرہ) بھی ہو گا اسے ہم نکال دیں گے وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں رہیں گے اور ) تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے (بیٹھے) ہوں گے۔اسی جہان میں اگر کوئی شخص جنت کے مزے لینا چاہتا ہے تو اسے اپنے دماغ میں سے تاریک خیالات کو خیر باد کہہ دینا ہو گا اس لئے کہ خیال ہی تو عزائم کا معمار ہے۔انسان جو کچھ بھی ہے خیالات کا ہی مجموعہ ہے۔قوتِ ارادی اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انسان کو اپنے دماغ کو شیطانی خیالات سے پاک رکھنا چاہیئے شیطان ایک نحیف دشمن نہیں اور راسی وجہ سے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اور یہی ایک وجہ ہے کہ انسان کو ہر وقت چوکس رہنا چاہیئے وگرنہ نتیجہ یہ ہوگا کہ شیطانی خیالات نا قابل تلافی نقصان پہنچا وہیں گے جس سے ہشتی اخلاق کی پرورش میں مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ذیل میں ہم ان سیاہ اور بھیانک امور کی فہرست دے رہے ہیں جن سے بچنا لازم ہے ، فکر و تشویش ، ضد ، جھوٹ ، انتقام، بغاوت ، گالی گلوچ ، نا واجب جوش ، کیبر، لغو گوئی، چشمک ، پژمردگی ، حسد، بد دیانتی، ظلم، مایوسی ، استهزاء ،ٹھٹھے بازی، شک شبه ، دل شکستگی ، بغض، غیبت ، دھوکہ بازی ، بد خواہی ، بے مہری یہ وہ سیاہ بھیانک چڑیلیں ہیں جو روح کے لئے زہر قاتل ہیں یہ اخلاق اور روح کو سیاہ کر دیتی ہیں۔ان کا کام جنت کی طرف لے جانا نہیں بلکہ اس سے بے راہ