عظیم زندگی — Page 8
خیالات اب اس موضوع کو لیجیئے جو انسانی خیالات سے متعلق ہے۔یاد رہے کہ ہر چیز اور ہر کام کی ابتداء خیال سے ہی ہوتی ہے۔انجیل میں لکھا ہے " جیسے ایک انسان کے اندیشے ہیں وہ ویسا ہی ہوتا ہے ؟ پر وورب (۲۲۷) سائنسی تحقیق نے اب حتمی طور ) پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک انسان وہی ہوتا ہے جیسا کہ وہ سوچتا ہے اور پھر وہ ویسا ہی بن جاتا ہے کیونکہ ہر انسان اپنے خیالات ہی کا مجموعہ ہے۔ہمارا کردار ہمارے خیالات کے مجموعہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہم اپنے کردار کی بنیاد اپنے خیالات پر رکھتے ہیں اور پھر ہم ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسا کہ ہم سوچتے ہیں۔ہم میں اپنے خیالات کو کنٹرول کرنے کی قوت موجود ہے اور اس کے مطابق اپنا کر دار بنا سکتے ہیں اور جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ ہمارا کردار ہمارے خیالات کا ہی آئینہ دا ہوتا ہے۔بد کرداری بد خیالات پر تعمیر ہوا کرتی ہے اور نیک کردار نیک خیالات پر بنا کرتے ہیں یہ بات سائنسی قانون کشش ثقل یا کسی دوسرے اور قانون کی طرح مسلم الثبوت ہے۔اخلاق حسنہ پیدا کرنے کے لئے ہم اس اخلاقی قانون (یعنی نیک خیالات کو کیوں استعمال کر سکتے ہیں کہ اپنے دماغ سے منفی خیالات نکال دیں اور صرف نیک خیالات پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر دیں۔جس طرح ایک باغبان اپنے چمن کو جڑی بوٹیوں سے پاک صاف رکھتا ہے اور اس میں پھل اور پھول ہی اُگاتا ہے اسی طرح ہمیں بھی اپنے دماغ سے منفی خیالات :