عظیم زندگی — Page 7
دعا اب اگلا موضوع دُعا کا ہے۔بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے اُس شخص کو متکبر کہا ہے جو اپنی قوتوں پر ہی بھروسہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کوسب قوتوں کا مالک نہیں سمجھتا۔آپ نے فرمایا کہ آپ کا ہتھیار صرف اور صرف دُعا ہے اور ہر کام میں آپ خدا کی مدد اور نصرت کے ہی طالب ہوتے ہیں۔اخلاق فاضلہ کے پیدا کرنے کے بارہ میں یہ بھی لازم ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی نصرت کے طلبگار ہوں اور دعا کی طرف راغب ہوں کیونکہ دعا بذاتہ ایک نیکی اور خلق ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے ولذكر الله اکبر ( ۴۶ : ۲۹ ) دُعا کا ایک اور فائدہ قرآن میں یوں بیان ہوا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ آج کے فسق و فجور کے زمانہ ہیں جبکہ شیطانی وسوسے ہر جہت سے ہم پر حملہ آور ہورہے ہیں ہمیں نیکی کی توفیق کی انتہائی ضرورت ہے جس سے ہم ان وسوسوں کا دفاع کر سکیں اس سلسلہ میں خدا تعالٰی نے ہمیں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اس کا جواب دعا میں مخفی ہے لہذا ہمیں دعا کی طرف بہت توجہ کرنی چاہیے نہ صرف ہماری نمازوں میں باقاعدگی پیدا ہو بلکہ ہمیں شیطانی وسوسوں سے بچنے کے لئے دعا بھی کرتے رہنا چاہئیے ایسے حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نہایت ہی پیاری دعا سکھلائی ہے۔" نیک طبع لوگوں کو جب کبھی شیطان کوئی بد تحریک کرتا ہے تو وہ یاد الہی میں مصروف ہو جاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں صراط مستقیم حاصل ہو جاتا ہے “