عظیم زندگی — Page 9
q کو نکال پھینکنا چاہیے اور اس مین میں صرف نیک اور پاکیزہ خیالات کی پرورش کرنی چاہیے جو پھلیں، پھولیں اور رنگ لائیں اور پھر اپنی خوشبو سے ہمارے کردار کو معطر کر دیں ہمیں تو اپنے دماغ میں غلیظ خیالات کو داخل ہی نہیں ہونے دینا چاہیئے اور جو اتفاقاً داخل ہو جائیں ان کو فورا نکال پھینکنا چاہیئے۔اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے جن سے شیطنت جنم لیتی ہے اس لئے ہمیں ناچ گانا ، جوا بازی کے اڈوں ، کنجر خانوں اور ایسی ہی اسفل چیزوں سے دور رہنا چاہیئے دوسرا جس سے اجتناب ضروری ہے وہ فحش ناول ہیں جو آجکل کتب خانوں میں ڈھیٹری تعمیر پڑے نظر آتے ہیں۔ایسے رسالے جن پر عورتوں کی نازیبا تصاویر ہوں اور ایسی فلمیں جن کو واقعی شیطانی فلمیں قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ سب شیطان مردود کے کارنامے ہیں جو ہمارے دماغ کو گندے خیالات سے بھر دیتے ہیں۔اسی طرح اپنے بھائیوں کے بارہ میں بڑے خیالات کی پرورش جیسے حسد ، نفرت ، دھوکا بازی ، انتقام وغیرہ سے بھی دماغ کو پاک رکھنا چاہیے کیونکہ یہ بھی غیر اخلاقی خیالات ہیں۔قرآن مجید ہمیں شیطان سے دور رہنے کی ہی ہدایت نہیں کرتا بلکہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔نیک صحبت سے اخلاق بڑھتے اور ایمان ترقی کرتا ہے۔ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نہ صرف خدا کے حضور اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں بلکہ اپنے خیالات کے بھی۔قرآن مجید کی درج ذیل آیت یہ بات صاف ثابت کرتی ہے۔فرمایا : لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا في انْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُم بِهِ الله (۲:۲۸۵) ترجمہ : اللہ کے لئے ہی ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اگر تم اسے ظاہر کرو گے تب بھی اور چھپاؤ گے اگر