عظیم زندگی

by Other Authors

Page xiii of 200

عظیم زندگی — Page xiii

میں متعین تھے۔اس احمدی کا نام عبد الرحمن دہلوی تھا۔مجھے یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آئی کہ ہماری یونٹ میں کئی اور انگریز فوجی افسر بھی تھے اُن سب میں سے اُس نے مجھے ہی کیوں اِس دعوت کے لئے چنا ہوا یوں کہ اس نے قادیان لکھا کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کی تصنیف ” اسلامی اصول کی فلاسفی اس افسر کے - ایڈریس پر بھجوائی جائے۔قادیان سے چنانچہ وہ کتاب بذریعہ ڈاک مجھے مل گئی لیکن اس وقت مجھ میں وہ روحانی استعداد نہیں تھی اِس لئے میں اس سے کما حقہ استفادہ نہ کر سکا البتہ اسلامی تعلیم کے بعض حصوں نے مجھے بہت متاثر کیا مجھے دو ہفتوں کی چھٹیاں تھیں اور مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دن کہاں گزاروں عبدالرحمن نے تجویز پیش کی کہ اس کے کچھ دوست قادیان میں رہتے ہیں ہیں وہاں چلا جاؤں اور یتعطیلات کے دن وہاں گزاروں۔قادیان وہاں سے تقریباً ایک ہزار میل دور تھا بہت لمبا سفر پھر یہ جگہ بھی میرے لئے اجنبی تھی چنانچہ میں نے چند دن بعد اسے بتلایا کہ میں وہاں نہیں جا رہا۔بی شنکر اُس کا چہرہ اُتر گیا ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اسے بہت صدمہ ہوا ہے یہ دیکھ کر میں نے ارادہ بدل دیا اور چند دن قادیان میں گزارنے ہی کا پروگرام مرتب کر لیا۔امپھال کی پچوکی سے جنگل میں واقع منی پور کا اسٹیشن کوئی ۸۰ میل کے فاصلہ پر تھا اور یہی نزدیک ترین اسٹیشن تھا۔یہ ٹرک سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی پہاڑیوں اور جنگلوں میں سے گزرتی تھی ہر حال میں نے جوں توں یہ فاصلہ طے کیا اس کے بعد دہلوی صاحب آجکل ٹورنٹو (کینیڈا) میں اپنے بیٹوں کے پاس مقیم ہیں۔