عظیم زندگی

by Other Authors

Page xii of 200

عظیم زندگی — Page xii

پہنچ گئی اور ہم دشمن کے نرغے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے یہاں کا ایک خاص لمحہ تو مجھے ابھی ایک روز روشن کی طرح یاد ہے میری زندگی کا بڑا ہی سنسنی خیز لمحہ ہم خندقوں میں بیٹھے تھے کہ اچانک مجھے اعلیٰ افسر نے بلوا بھیجا جونہی میں خندق سے نکلا ایک گولہ خندق پر گرا اور میرے تمام ساتھی موت کا معمہ بن گئے۔یہ واقعہ ۱۹۳۳ء کا ہے۔اسلام کا پیغام مجھے عیسائیت نے کبھی متاثر نہیں کیا۔اسلام کے متعلق مجھے اس وقت تک کچھ معلومات نہ تھیں البتہ اپنے ایک برہمن دوست کی وساطت سے کچھ عرصہ ہندو مذہبی لٹر پھر ضرور پڑھا۔اس وقت تک میں نے یا تو پنڈت نہرو کی کتاب " تاریخ عالم کی جھلکیاں انگریزی زبان میں پڑھی تھی یا میرے لئے مغل بادشاہوں کے حالات ویسپی کا باعث تھے۔عام نوجوانوں کی زندگی کی دلچسپیاں سگریٹ نوشی اور شراب نوشی تھیں میں بھی سولہ سال کی عمر ہی سے ان دونوں چیزوں کا عادی تھا۔جوا کھیلنا تومیری طبیعت ثمانیہ تھی اس پر مستزاد ناچ گانے اور سینما دیکھنے کی عادت۔مذہب اسلام قبول کرنے کے بعد ان تمام مذکورہ عادتوں میں سے جس عادت سے سب کے بعد چھٹکارا ملا وہ سگریٹ نوشی تھی۔اگرچہ اسلام نے اسے حرام شرار نہیں دیا تاہم اسے ایک مکر و فعل سمجھا جاتا ہے۔اسلام کا پیغام مجھ تک سب سے پہلے ایک احمد می حوالدار کلرک نے پہنچایا جو اُس وقت میری یونٹ میں ملازم تھا۔اُس وقت ہم برما کی سرحد کے قریب امپھال کی چوکی