عظیم زندگی — Page 52
۵۲ ضبط نفس ایک مسرت سے بھر گویہ زندگی کے کردار کو ڈھالتا ہے۔بہندوؤں کی مقدس کتاب گیتا " میں لکھا ہے کہ " وہی شخص حقیقی مسرت سے فیضیاب ہے جو نفرت سے بالا تر ہے اور اس کے جذبات پر اس کا قابو ہے " ضبط نفس سے انسان کی خود داری بھی بڑھتی ہے۔ایک کہاوت ہے کہ اپنی عزت خود کرو ورنہ دوسرے بھی عزت نہ کریں گے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ جو خود داری کو پروان چڑھاتا ہے وہ کبھی دوسروں کی نظر میں بے عزت نہیں ہوتا۔امریکی مصنف تھامس جیفرسن نے کیا خوب کہا ہے کہ " ایک شخص کو دوسرے پر اس سے زیادہ کوئی فضیلت نہیں کہ وہ ہر حال میں خوش و خرم رہے ؛ ضبط نفس سے انسان میں سب سے افضل صفت صبر کی پیدا ہوتی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے :- ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُواقفِ وَاتَّقُوا (۲۰۱۳) اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ضبط نفس کا پیدا کرنا درحقیقت ایک زبر دست تعلیم ہے لیکن یاد رہے کہ اس تعلیم کا صرف وہی حصہ فائدہ مند ہو گا جس پر عمل کیا جائے ضبط نفس کوئی انعام نہیں بلکہ ایک زبر دست مجاہدہ ہے۔ہم خود اپنی روح کے سنوارنے والے ہیں اور ہما را قادر مطلق پیارا خدا ہمارا رہنما اور مددگار ہے ؟ |