عظیم زندگی — Page 51
۵۱ اور ضبط سے کام لیا۔آپ میں صبر، صداقت، دیانت ، جرأت، انصاف کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے جیسا کہ آپ حضور کی بیگم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ کا خُلق قرآن تھا كَانَ خُلُقَهُ الْقُرْآنِ۔حضرت احمد علیہ السّلام کی زندگی اور کردار میں بھی ہمیں ضبط نفس نمایاں نظر آتا ہے۔آپ کی زندگی میں آپ سے زیادہ شاید ہی کسی اور کو اتنی گالیاں دی گئیں اور طعن و تشنیع کا ہدف بنایا گیا لیکن اس کے باوجود آپ کے کر دار اور عمل میں کبھی فرق نہ آیا۔آپ کے نحیف کندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری تھی لیکن آپ نے ہمیشہ خدا تعالیٰ پر تو کل کیا اور اپنے مشن میں کامیابی و کامرانی کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کے حضور ہی دُعا نی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ عارضی ناکامی سے کبھی نہ گھبرائے اور نہ ہی کسی کی دشمنی اور تمسخر نے آپ کو پریشان کیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا " میرے دل میں رقم کی انتہا نہیں رفتہ کو تو میں نے بالکل ہی ختم کر دیا ہے۔ہم اپنی زندگی میں اپنے حاکم ہیں۔خدا نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور ہمیں ایسی فراست عطا کی ہے جس سے ہم اپنا کر دار اچھا بنا سکیں۔یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کردار کے معمار نہیں۔شیطانی قوتوں کا دلیری سے مقابلہ کریں۔اپنے آپ کو پاک صاف رکھیں اور دعا کے ساتھ خدائے ذوالجلال کی ہدایت اور رحمت کے طلبگار ہوویں یہ ایک بڑا مشکل کام ہے جسے ہم نے ہی کرنا ہے اور صراط مستقیم پر گامزن رہنے کیلئے ضبط نفس کے سٹیرنگ ویل پر قابو رکھنا ہوگا جس طرح ایک جہاز کا کپتان اس کو طوفان میں سے گذارتا ہوا بندرگاہ پر لے آتا ہے۔STEERING WHEEL i