عظیم زندگی — Page 27
کا مقابلہ کرے جیسے کہ وہ خوشگوار حالات کا سامنا کرتا ہے۔مصائب ہمشکلات، ناکامیوں اور نامرادیوں کے وقت انسان بعض اوقات غیر ضروری طور پر پریشان ہو جاتا ہے اور ان پریشانیوں کی وجہ سے وہ سکون اور چین کی جنت سے محروم رہتا ہے۔یہ پریشانیاں ہر اس کا موجب نہیں ہوتیں بلکہ انسان کا طرز عمل اس ہر اس کا باعث بن جاتا ہے۔دو اشخاص کی مثال میں جو ایک جیسے حالات سے دوچار ہیں ایک گھبرا جاتا ہے اور مایوسی کا اظہار کرتا ہے لیکن دوسرا پر سکون رہتا ہے۔حالات ایک سے ہیں لیکن ایک تو گھبرا گیا دوسرے نے پریشانی کو قریب نہ آنے دیا۔فرق تو ظاہر ہے اسلام یہی سکھاتا ہے کہ ہمشکل اور مصیبت کے وقت صبر وتحمل کا مظاہرہ کرو اگر اس میں کوئی کامیاب ہو جائے تو اس کی دماغی حالت پرسکون رہے گی اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگاکہ اس کا دل بھی مضبوط رہے گا اور با وجو د ناسازگار حالات کے وہ پرسکون رہے گا۔سو کوشش کرنی چاہیئے کہ انسان ہر حالت میں پرسکون رہے اور بہتری کی جستجو کرے۔اس کرتا میں خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ہر شخص مصائب و مشکلات سے ضرور گزرے گا لیکن یہ عزم ہونا چاہیے کہ جب بھی ان کا سامنا ہو بغیر شکوہ و شکایت اور مثبت رویہ سے اس سے بھر پور فائدہ اُٹھائے یہی صورت ہے جس سے کہ انسان اسی زندگی میں جنت کا لطف اُٹھا سکتا ہے۔قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ آنے والی زندگی میں جنت مسترت اور سکون کا گہوارہ ہے اس وقت انسانی روح پر سیاہ بادلوں کا سایہ نہ ہوگا بلکہ اس کے برعکس ہر وقت ہشت کا پرسکون زندگی بخش شورج انہیں زندگی دیتا رہے گا۔اضطراب اور بے کلی کی جگہ سکون اور چین کی حکمرانی ہوگی۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :-